آزاد کشمیر میں صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے تین منصوبوں کی منظوری

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں آزاد کشمیر میں پن بجلی کے تین چھوٹے پیمانے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ان منصوبوں کا مقصد مقامی آبی وسائل سے بجلی پیدا کر کے صاف، قابلِ تجدید اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنا ہے ۔ منظور شدہ …

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں آزاد کشمیر میں پن بجلی کے تین چھوٹے پیمانے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ان منصوبوں کا مقصد مقامی آبی وسائل سے بجلی پیدا کر کے صاف، قابلِ تجدید اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنا ہے ۔

منظور شدہ منصوبوں میں پھلوائی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (3 میگاواٹ)،خورشید آباد ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (2.71 میگاواٹ) اورنوشہرہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (1.95 میگا واٹ ) شامل ہیں ۔

یہ منصوبے آزاد کشمیر میں توانائی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے، مقامی سطح پر بجلی پیداوار میں اضافہ کرنے اور ماحول دوست توانائی کے فروغ کے لیے ایک عملی پیش رفت ہیں۔وفاقی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل صاف، سبز اور پائیدار توانائی میں مضمر ہے۔

آزاد کشمیر میں یہ منصوبے نہ صرف توانائی خود کفالت کی جانب قدم ہیں بلکہ’’ اُڑان پاکستان‘‘ کے توانائی و بنیادی ڈھانچہ ستون کے اہداف کی عملی تعبیر بھی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے پیمانے کے قابلِ تجدید توانائی منصوبے مقامی معیشت کو مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

اس اجلاس میں سی ڈی ڈبلیو پی نے مجموعی طور پر 12 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جن کی کل لاگت تقریباً 35.4 ارب روپے ہے جبکہ مزید چھ منصوبے ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ECNEC) کو حتمی منظوری کے لیے بھجوائے گئے۔وزارتِ منصوبہ بندی کے ترجمان کے مطابق یہ اقدامات حکومت کے پانچ نکاتی ترقیاتی فریم ورک (5Es) برآمدات، ای-پاکستان، توانائی و بنیادی ڈھانچہ، ماحولیات، مساوات و بااختیاری کے اہداف کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔