آسٹریلیا،وکٹوریہ میں موسمیاتی خطرات بڑھنے لگے، اربوں ڈالر کا انفراسٹرکچر خطرے میں

آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسمی حالات سے انفراسٹرکچر کو لاحق خطرات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ منگل کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 57 ارب آسٹریلوی ڈالر سے زائد مالیت کا انفراسٹرکچر خطرے کی زد میں ہے۔

کینبرا۔19مئی (اے پی پی):آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسمی حالات سے انفراسٹرکچر کو لاحق خطرات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ منگل کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 57 ارب آسٹریلوی ڈالر سے زائد مالیت کا انفراسٹرکچر خطرے کی زد میں ہے۔ریاستی ادارے انفراسٹرکچر وکٹوریہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ چار دہائیوں میں خطرے سے دوچار انفراسٹرکچر کی مالیت میں تقریباً 25 فیصد اضافہ متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق جنگلاتی آگ، سیلاب اور شدید گرمی ریاست کے لیے سب سے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔ اس وقت 23 ارب آسٹریلوی ڈالر سے زائد مالیت کا انفراسٹرکچر جنگلاتی آگ کے خطرے سے متاثر ہے، جبکہ 2070 تک یہ رقم 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔اسی طرح سیلاب کے خطرات پہلے ہی 22 ارب آسٹریلوی ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثوں کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ شدید گرمی سے متاثر ہونے والے انفراسٹرکچر کی تعداد 2030 سے 2070 کے درمیان دوگنا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ سڑکوں اور ریلوے نیٹ ورک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ریاستی دارالحکومت میلبورن اور اہم علاقائی راستوں میں۔ توانائی اور صحت کے شعبے کا انفراسٹرکچر بھی موسمیاتی خطرات سے محفوظ نہیں۔رپورٹ کے مطابق شدید موسمی حالات نے 2016 تک کے عشرے میں وکٹوریہ کو سالانہ اوسطاً 2.7 ارب آسٹریلوی ڈالر کا نقصان پہنچایا، جبکہ صرف 2022 کے سیلاب پر حکومت کو 3.5 ارب ڈالر امداد اور بحالی پر خرچ کرنا پڑے۔ماہرین نے تجویز دی ہے کہ بہتر نکاسی آب، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ سڑکوں کے مواد اور دیگر حفاظتی اقدامات مستقبل میں نقصان کو نمایاں حد تک کم کر سکتے ہیں۔