آسٹریلیا میں خناق سے دوسری موت رپورٹ

آسٹریلیا میں خناق (ڈفتھیریا) کے باعث 60 سالہ شخص کی موت رپورٹ کی گئی ہے جو رواں ماہ اس بیماری سے ہونے والی دوسری موت ہے۔

کینبرا۔25مئی (اے پی پی):آسٹریلیا میں خناق (ڈفتھیریا) کے باعث 60 سالہ شخص کی موت رپورٹ کی گئی ہے جو رواں ماہ اس بیماری سے ہونے والی دوسری موت ہے۔شنہوا کے مطابق آسٹریلین براڈکاسڑنگ کارپوریشن نے بتایا کہ مذکورہ شخص پہلے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھا اور وسطی آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ اتوار کو ناردرن ٹیریٹری کے صحرائی شہر ایلس سپرنگز کے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔محکمہ صحت کے حکام نے مارچ میں ناردرن ٹیریٹری میں خناق کے پھیلاؤ کا اعلان کیا تھا جو 1990 کی دہائی کے بعد اس علاقے میں اس بیماری کا پہلا بڑا کیسز کلسٹر ہے۔ یہ بیکٹیریا سے پھیلنے والی بیماری ویکسین کے ذریعے روکی جا سکتی ہے، تاہم یہ سانس کی بیماری اور جلدی انفیکشن کا باعث بن سکتی ہے۔

آسٹریلین سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق رواں سال اب تک ملک بھر میں خناق کے کم از کم 242 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ ویسٹرن آسٹریلیا، ساؤتھ آسٹریلیا اور کوئنز لینڈ میں بھی اس بیماری کے پھیلاؤ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ماہرین کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں معمول کی ویکسی نیشن کے باعث یہ بیماری نسبتاً نایاب ہے تاہم کم ویکسی نیشن شرح رکھنے والی کمیونٹیز میں اس کے کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ویکسی نیشن بروقت مکمل کریں ۔حکام نے خطرے سے دوچار بالغ افراد کے لیے ہر پانچ سال بعد بوسٹر ڈوز لگوانے کی سفارش کی ہے جبکہ اس سے قبل یہ وقفہ 10 سال تھا۔