کینبرا۔13مارچ (اے پی پی):آسٹریلیا کی ریاست کوئینز لینڈ میں سائنس دانوں نے چٹانی علاقوں میں رہنے والی مانیٹر لیزرڈ (چھپکلی) کی تین نئی اقسام دریافت کر لی ہیں، جو ملک کے مشرقی ساوانا علاقوں میں اس نوع کی پہلی باقاعدہ سائنسی شناخت قرار دی جا رہی ہے۔شنہو ا کے مطابق آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی (اے این یو ) کے محققین نے مانیٹر لیزرڈ (چھپکلی) کی نئی اقسام کو رینبو راک مانیٹر، …
آسٹریلیا میں چھپکلی کی تین نئی اقسام دریافت

مزید خبریں
کینبرا۔13مارچ (اے پی پی):آسٹریلیا کی ریاست کوئینز لینڈ میں سائنس دانوں نے چٹانی علاقوں میں رہنے والی مانیٹر لیزرڈ (چھپکلی) کی تین نئی اقسام دریافت کر لی ہیں، جو ملک کے مشرقی ساوانا علاقوں میں اس نوع کی پہلی باقاعدہ سائنسی شناخت قرار دی جا رہی ہے۔شنہو ا کے مطابق آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی (اے این یو ) کے محققین نے مانیٹر لیزرڈ (چھپکلی) کی نئی اقسام کو رینبو راک مانیٹر، اورنج ہیڈڈ راک مانیٹر اور ییلو ہیڈڈ راک مانیٹرکا نام دیا ہے۔
یہ اقسام اپنی شوخ رنگت اور ساوانا کے چٹانی ٹیلوں میں رہنے کی صلاحیت کے باعث منفرد سمجھی جاتی ہیں۔یونیورسٹی کے بیان کے مطابق جینیاتی اور جسمانی ساخت کے تجزیے سے یہ ثابت ہوا کہ مانیٹر لیزرڈ کی تینوں اقسام لاکھوں سال سے ایک دوسرے سے جدا ہو کر ارتقائی عمل سے گزر رہی ہیں۔یہ تحقیق سائنسی جریدے زولوجیکل جرنل آف دی لِنیئن سوسائٹی میں شائع ہوئی ہے،
جس کے مطابق اس دریافت سے دنیا کے مشہور مانیٹر لیزرڈ گروپ کی حیاتیاتی تنوع کے بارے میں نئی سمجھ سامنے آئی ہے۔ اسی گروہ میں دنیا کی سب سے بڑی چھپکلی کوموڈو ڈریگن بھی شامل ہے۔تحقیق کے شریک مرکزی مصنف سٹیفن زوزایا نے کہا کہ ان تین نئی اقسام کی دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی آسٹریلیا میں اب بھی حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔








