وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی معیشت کا فروغ اولین ترجیح ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ویژن کے تحت 2035 تک 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، نوجوانوں کو عالمی معیار کے ہنر سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے،آٹو انڈسٹری پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، ملکی معاشی …
آٹو انڈسٹری پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ، احسن اقبال

مزید خبریں
لاہور۔20ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی معیشت کا فروغ اولین ترجیح ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ویژن کے تحت 2035 تک 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، نوجوانوں کو عالمی معیار کے ہنر سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے،آٹو انڈسٹری پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، ملکی معاشی ترقی کا مستقبل پیداواری اور مینوفیکچرنگ صنعت کے فروغ، برآمدات میں اضافے، تحقیق و ترقی، جدت اور عالمی معیار کی مسابقتی صلاحیت سے وابستہ ہے-
ایکسپو سنٹر لاہور میں آٹو ایکسپو شو کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات پر مبنی معیشت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے، ملکی پیداواری ڈھانچے میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے، صنعتی شعبے کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور نوجوانوں کو عالمی معیار کے ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ آٹو انڈسٹری پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ صنعت اور اکیڈمیا کے درمیان موثر تعاون کے ذریعے تحقیق و ترقی کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان میں جس آٹو انڈسٹری کی بنیاد رکھی گئی، وہ آج ملک کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اس شعبے کی کارکردگی اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں صنعتی پیداوار اور برآمدی صلاحیت کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا محور پیداواری شعبے کو مضبوط بنانا، صنعتی استعداد میں اضافہ اور برآمدات کو فروغ دینا ہے، 2035 تک 100 ارب ڈالر کی ایکسپورٹس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے حکومت، صنعت اور اکیڈمیا کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا، حکومت اس حوالے سے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے –
احسن اقبال نے کہا کہ ماضی میں درآمدی رجحانات اور پراپرٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری نے ملکی معیشت کی سمت کو متاثر کیا، جبکہ پیداواری اور برآمدی شعبے کو وہ توجہ نہیں مل سکی جس کا وہ مستحق تھا، اب ملکی معیشت کی سمت کو پیداواری سرگرمیوں، صنعت، برآمدات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی جانب موڑنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایک ایسا معاشی ماحول تشکیل دینا ہے جس میں برآمدی صنعت کو سہولیات میسر ہوں، مقامی صنعت عالمی منڈی میں مقابلہ کرسکے اور پاکستان اپنی مصنوعات کے ذریعے عالمی سپلائی چین کا حصہ بن سکے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پیداواری ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پروڈکٹیوٹی، کوالٹی اور انوویشن کو عالمی معیار تک لے جانا ہوگا، محض پیداوار میں اضافہ کافی نہیں بلکہ مصنوعات کے معیار، پیداواری کارکردگی، ٹیکنالوجی اور جدت کو بھی عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا-
انہوں نے کہا کہ ملکی صنعت کو تحقیق و ترقی کے ساتھ مربوط کرنا ناگزیر ہے، جدید دنیا میں وہی صنعتیں کامیاب ہوتی ہیں جو بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، صارفین کی ضروریات اور عالمی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق خود کو مسلسل تبدیل کرتی رہتی ہیں۔انہوں نے اس ضمن میں نوکیا اور بلیک بیری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کمپنیوں نے وقت کے ساتھ خود کو تبدیل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں وہ عالمی مارکیٹ میں پیچھے رہ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صنعت کو بھی ماضی کے کامیاب ماڈلز پر انحصار کرنے کے بجائے مستقبل کی ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کے تقاضوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ مینوفیکچررز کو ملکی صنعتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آٹو پارٹس اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں موجود صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صرف ایک ایسی مارکیٹ نہیں بننا چاہیے جہاں مصنوعات درآمد کرکے استعمال کی جائیں بلکہ ملک کو ایک ایکسپورٹنگ پلیٹ فارم بنانا ہوگا، ہمیں پرانے فارمولوں کو دہرانے کے بجائے نئی ٹیکنالوجی، جدت، تحقیق اور ویلیو ایڈیشن پر مبنی صنعتی ماڈل اپنانا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ پیداواری صنعت کو مضبوط اور مسابقتی بنانے کے لیے اقتصادی ترقی اور صنعتی پالیسی میں باہمی ربط ضروری ہے، حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ملکی صنعت میں ویلیو ایڈیشن کا عمل تیز کرنا ہوگا تاکہ پاکستانی مصنوعات زیادہ قدر کے ساتھ عالمی منڈیوں تک پہنچ سکی، حکومت صنعتی شعبے اور نجی سیکٹر کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی، صنعت کاروں اور حکومت کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری ہے تاکہ پالیسی سازی زمینی حقائق اور صنعت کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کی جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بہت جلد مینوفیکچررز کی وزیراعظم سے بھی ملاقات کروائی جائے گی تاکہ صنعتی شعبے کے نمائندگان براہ راست اپنے مسائل، تجاویز اور برآمدات کے فروغ سے متعلق سفارشات وزیراعظم کے سامنے پیش کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات کے عمل میں تمام صنعتوں اور کاروباری شعبوں کو یکساں اور منصفانہ مواقع فراہم کرنا ضروری ہے، ٹیرف پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو مقامی پیداواری صلاحیت کو فروغ دے، صنعت کو عالمی مسابقت کے لیے تیار کرے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بنے-انہوں نے کہا کہ نوجوان قیمتی اثاثہ ہیں،پاکستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کے مالک ہیں، ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے انہیں عالمی معیار کے جدید ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا۔ حکومت نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات اور پیداواری شعبے کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا وژن ملک کو برآمدات پر مبنی، مسابقتی اور پیداواری معیشت میں تبدیل کرنا ہے، انہوں نے حالیہ پالیسی اقدامات میں برآمدات، صنعتی پیداوار، ویلیو ایڈیشن، عالمی معیار کی کوالٹی اور برآمدی شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی و تحقیق کے فروغ کو ترجیح قرار دیا ہے،حکومت صنعتی اور برآمدی شعبے کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے، کاروباری ماحول بہتر بنانے اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔







