چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے، آئین کی پاسداری ہی سے معاشرے میں استحکام ممکن ہے جبکہ آئین میں اختیارات اور حدود کا واضح تعین کیا گیا ہے
اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جائے،آئین کی پاسداری سے معاشرے میں استحکام ممکن ہے، جسٹس امین الدین خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے، آئین کی پاسداری ہی سے معاشرے میں استحکام ممکن ہے جبکہ آئین میں اختیارات اور حدود کا واضح تعین کیا گیا ہے۔وفاقی آئینی عدالت میں نئے عدالتی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ نئے عدالتی سال کا آغاز انصاف کی فراہمی کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ وفاقی آئینی عدالت آئینی معاملات پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہی ہے اور قیام کے مختصر عرصے میں کئی اہم مقدمات کے فیصلے سنائے گئے ہیں۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، بلا تفریق آئینی انصاف ہماری بنیادی ترجیح رہنی چاہیے۔ مقدمات کی سماعت کے لیے تقرر شفاف انداز میں کیا جاتا ہے جبکہ عدلیہ کی آزادی کسی بھی معاشرے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
چیف جسٹس نے عدالتی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ادارہ جاتی استعداد اور شفافیت کو بڑھاتا ہے۔ بیرونی دوروں اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے عدالتی شعبے میں تعاون بڑھایا جا رہا ہے جبکہ بار ایسوسی ایشنز اور دیگر وفود کے وفاقی آئینی عدالت کے دورے بھی اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت تفویض کردہ آئینی ذمہ داریاں پختہ عزم کے ساتھ نبھاتی رہے گی، بار اور بینچ کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا اور نظام انصاف پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل مسعود چشتی نے کہا کہ چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کی حیثیت سے بہترین ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل ایک بڑا چیلنج تھی تاہم عدالت نے اپنی آئینی ذمہ داریاں سنجیدگی، توازن اور آئینی بصیرت کے ساتھ انجام دی ہیں۔مسعود چشتی نے امید ظاہر کی کہ وفاقی آئینی عدالت مستقبل میں پاکستان کے آئینی و قانونی نظام کے لیے رہنما اصول کا درجہ حاصل کرے گی اور اس کا سفر آئین کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی سمت میں آگے بڑھتا رہے گا۔
انہوں نے وفاقی آئینی عدالت سے سائلین کو جلد وڈیو لنک کی سہولت فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار ہارون الرشید نے وفاقی آئینی عدالت کے نئے عدالتی سال کی تقریب میں شرکت کو اعزاز قرار دیتے ہوئے ججز کو مبارکباد پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار نے آئینی تنازعات کے حل کے لیے خصوصی فورم کی ضرورت پر ہمیشہ زور دیا ہے اور امید ہے کہ وفاقی آئینی عدالت اپنے آئینی فرائض غیرجانبداری اور دیانت داری سے انجام دے گی۔انہوں نے کہا کہ بینچ اور بار ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ انصاف کے دو اہم ستون ہیں۔ عدلیہ کو جہاں اصلاح کی ضرورت ہوگی، وہاں مثبت تجاویز دی جائیں گی۔ دعا ہے کہ نیا عدالتی سال ایک نئے اور روشن باب کا آغاز ثابت ہو۔اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے 13 نومبر 2025ء کو پہلی مرتبہ کام شروع کیا۔ دیگر عدالتیں اپنے ماضی کے نظائر اور روایات کی طرف دیکھ سکتی ہیں، لیکن وفاقی آئینی عدالت کے پاس ابھی اپنا ماضی موجود نہیں۔
عدالت کا آغاز کس انداز میں یاد رکھا جائے گا، اس کا فیصلہ آنے والے برسوں میں اس کے اپنے کام سے ہوگا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی سوالات کے لیے خصوصی عدالت قائم کی گئی اور بعض ایسے اختیارات جو پہلے سپریم کورٹ کے پاس تھے، وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوئے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات، بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق معاملات اور آئینی سوالات کی مستند تشریح وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کی ساکھ کا فیصلہ اس کے اپنے ریکارڈ سے ہوگا اور عدالت کو عوام اور مقدمہ بازوں کا اعتماد اپنے فیصلوں کے ذریعے حاصل کرنا ہوگا۔ عدالت نے یہ واضح کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ مستقبل میں خود کو کس نوعیت کی آئینی عدالت بنانا چاہتی ہے۔منصور عثمان اعوان کے مطابق عدالت میں قانونی تحقیق، مقدمات کے انتظام اور عدالتی علم کو منظم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ عدالت اپنے عملے اور افسران کی تربیت کے ذریعے مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی نوعیت کے تنازعات کو آئینی زبان میں پیش کرکے عدالت کو الجھانے سے گریز کرنا ہوگا۔ سیاسی تنازعات میں الجھائو عدالت کی ساکھ، عوامی اعتماد اور اس کے اصل کام کو نقصان پہنچا سکتا ہے تاہم عدالت کسی حقیقی آئینی سوال سے صرف اس لیے پیچھے نہیں ہٹ سکتی کہ سوال مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت میں پہنچنے والے سوالات معمولی نوعیت کے نہیں ہوتے، ان کے فیصلے ملک میں اختیارات کے توازن، بنیادی حقوق اور آئین کی تشریح پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ آئینی عدالت کے فیصلے مستقبل میں ہر عدالت اور ہر شہری پر اثرانداز ہوں گے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کو اپنے کام کے لیے وہی عملی تعاون اور اپنے فیصلوں کے لیے وہی احترام ملنا چاہیے جو ایک سو سال پرانی عدالت کو حاصل ہوتا ہے۔ اگلے عدالتی سال میں عدالت کے پاس اپنا پہلا سال، فیصلے اور اپنا بنایا ہوا ریکارڈ موجود ہوگا۔








