ادویات کی برآمدات میں رواں سال ریکارڈ 38 فیصد اضافہ ہوا ہے، فارما سیکٹر میں اصلاحات جاری ہیں، مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستانی ادویات کی برآمدات میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے جو حالیہ تاریخ میں سب سے بڑا اضافہ ہے، حکومت فارماسیوٹیکل صنعت کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور ریگولیٹری نظام میں بہتری کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔منگل کو ایوان بالا میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ فارماسیوٹیکل …

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستانی ادویات کی برآمدات میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے جو حالیہ تاریخ میں سب سے بڑا اضافہ ہے، حکومت فارماسیوٹیکل صنعت کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور ریگولیٹری نظام میں بہتری کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔منگل کو ایوان بالا میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ فارماسیوٹیکل صنعت کی برآمدات میں اضافے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ حکومت نجی شعبے کے صنعت کاروں کو سہولتیں فراہم کر رہی ہے اور برآمدات بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی ضرورت کی تقریباً 85 فیصد ادویات مقامی طور پر تیار کرتا ہے، تاہم ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے تقریباً 90 فیصد ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹس (اے پی آئیز) درآمد کیے جاتے ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حالیہ چین پاکستان بی ٹو بی کانفرنس کے دوران چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ تقریباً 350 ملین ڈالر کے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں طے پائی ہیں جبکہ 11 کمپنیاں پاکستان میں اے پی آئیز کی تیاری کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اس وقت عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے لیول ٹو ایکریڈیٹیشن پر ہے اور لیول تھری ایکریڈیٹیشن کے حصول کے لیے پیش رفت جاری ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ٹیم اکتوبر میں پاکستان کا معائنہ کرے گی اور امید ہے کہ اپریل 2027 تک پاکستان لیول تھری ایکریڈیٹیشن حاصل کرلے گا، جس کے بعد پاکستانی ادویات کے لیے مزید تقریباً 100 ممالک کی منڈیاں کھل سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل کردیا ہے۔ ماضی میں کسی میڈیکل ڈیوائس کی رجسٹریشن میں ڈیڑھ سے ڈھائی سال تک لگ جاتے تھے تاہم اب درخواست گزار کو دفتر یا کسی افسر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔وفاقی وزیر کے مطابق درخواست گزار گھر بیٹھے آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست جمع کراسکتا ہے اور تقریباً 20 دن میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ای میل کے ذریعے موصول ہوجاتا ہے۔ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ قیمتوں کے تعین کے دو بنیادی طریقہ کار ہیں جن میں ہارڈ شپ کیسز اور فکسیشن کیسز شامل ہیں۔ ہارڈ شپ کیسز میں پہلے سے رجسٹرڈ اور قیمت مقرر شدہ ادویات کی قیمت میں اضافے کی درخواستیں شامل ہوتی ہیں جبکہ فکسیشن کیسز میں نئی ادویات یا نئے مالیکیولز کی پہلی مرتبہ قیمت مقرر کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرتی ہے جبکہ وزیر خزانہ کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی ہر دوا کی قیمت مقرر کرنے کے فارمولے کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو بھجواتی ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 35 فکسیشن کیسز وفاقی کابینہ سے منظور کرائے گئے جبکہ مزید 52 کیسز کمیٹی کی جانب سے حتمی کرکے کابینہ کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منظور ہونے والے فکسیشن کیسز میں تقریباً 70 فیصد ایسی ادویات شامل ہیں جن کے متبادل پہلے ہی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

نئے مالیکیولز کی منظوری سے ایک ہی بیماری کے علاج کے لیے مزید ادویات مارکیٹ میں آئیں گی اور مسابقت کے نتیجے میں مریضوں کو نسبتاً کم قیمت پر ادویات دستیاب ہونے کی توقع ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا معاملہ انتہائی حساس ہے اور حکومت اس حوالے سے فیصلے کرتے ہوئے تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھتی ہے، کیونکہ قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے عوامی ردعمل اور میڈیا کی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت فارماسیوٹیکل شعبے میں اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، مقامی سطح پر APIs کی تیاری اور عالمی منڈیوں تک پاکستانی ادویات کی رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔