ادویات کی مارکیٹنگ پر اٹھنے والے اخراجات کو صارفین تک منتقل کرنا ناقابل قبول ہے،معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا

اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ادویات کی مارکیٹنگ پر اٹھنے والے اخراجات کو صارفین تک منتقل کرنا ناقابل قبول ہے، ادویات ساز ادارے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لئے طبی ماہرین اور ان کی ایسوسی ایشنز پر کئے جانے والے اخراجات کو دوایوں کی قیمتوں میں شامل کرتے ہیں جس سے صارفین …

اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ادویات کی مارکیٹنگ پر اٹھنے والے اخراجات کو صارفین تک منتقل کرنا ناقابل قبول ہے، ادویات ساز ادارے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لئے طبی ماہرین اور ان کی ایسوسی ایشنز پر کئے جانے والے اخراجات کو دوایوں کی قیمتوں میں شامل کرتے ہیں جس سے صارفین پر بوجھ پڑتا ہے۔ وزارت قومی صحت میں ادویات کی مارکیٹنگ کی حکمت عملی اور مسائل کے حوالے سے وارکنگ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے بتایاکہ ادویات کی تشہیر کمنپیوں کا جائز حق ہے لیکن تشہیر پر کئے گئے اخراجات کو صارفین تک منتقل کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں علاج معالجے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں کیونکہ ادویات تیار کرنے والی کمپنیاں طبی ماہرین اور ان کی تنظیموں کو دی جانے والے مراعات کو ادویات کی قیمت میں شامل کرتے ہیں جس سے دوائیوں کی قیمتوں میںاضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنی مصنوعات کی تشہیر کمپنیوں کا حق ہے تاہم اس پر کئے جانے والے اخراجات کو صارفین تک منتقل کرنا درست نہیں۔ورکنگ گروپ کے اجلاس میں ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر اسد حفیظ، ڈریپ کے سی ای او ڈاکٹر آصف رؤف، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے سابق چیئرمین پروفیسر اقبال بھٹہ اور فارماسسٹ ایاز کیانی سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ ورکنگ گروپ نے ڈاکٹر ظفرمرزا کو ادویات کی غیر اخلاقی مارکیٹنگ کا جائزہ لینے کے لئے منتخب کیا۔ ورکنگ گروپ میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ملک مبشر، میڈیسن کے پروفیسر عیس محمد اور مقامی و بین الاقوامی ادویہ ساز اداروں کے نمائندے، میڈیا سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ ادویات تیارکرنے والی کمپنیاں طبی ماہرین کو دی جانے والی مراعات ، دوائیوں کی قیمتوں میں شامل کرتی ہیں جس سے ادویات کی قیموں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ڈرپ کے سربراہ نے کہا کہ طبی ماہرین کی نگرانی کاکوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے پی ایم ڈی سی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ فارما بیورو، پاکستانی اور بین الاقوامی ادویہ ساز اداروں کی ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی ادویہ سازی کے شعبہ میں مارکیٹنگ کی حکمت عملی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے۔ پی ایم ڈی سی کے ڈاکٹر طاہر اعظم نے کہا کہ مارکیٹنگ کی غیراخلاقی سرگرمیوں میں 50 کمپناں ملوث ہیں اور ان کی تنظیم کسی بھی غلط کام کے خاتمہ کی معاونت کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ دوسری جانب طبی ماہرین اور ان کی تنظیموں کی جانب سے دوایاں تیارکرنے والی کمپنیوں سے رقوم اور مراعات میں اضافہ کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ ورکنگ گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ اجلاس کے مقاصد کے حصول کے لئے طے کی گئی حکمت عملی پرمؤثر طورپر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ادویات کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ پر قابو پایا جا سکے۔