ازبکستان نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 8.7 فیصد معاشی ترقی حاصل کرتے ہوئے دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیاجہاں سرمایہ کاری، برآمدات اور وسیع اقتصادی اصلاحات نے ملکی معیشت کو مضبوط سہارا فراہم کیا۔سینٹر فار اکنامک ریسرچ اینڈ ریفارمز خورشید اسدوف کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری تا مارچ کے دوران ازبکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) …
ازبکستان کی 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 8.7 فیصد معاشی ترقی ،دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں نمایاں مقام

مزید خبریں
اسلام آباد۔16مئی (اے پی پی):ازبکستان نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 8.7 فیصد معاشی ترقی حاصل کرتے ہوئے دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیاجہاں سرمایہ کاری، برآمدات اور وسیع اقتصادی اصلاحات نے ملکی معیشت کو مضبوط سہارا فراہم کیا۔سینٹر فار اکنامک ریسرچ اینڈ ریفارمز خورشید اسدوف کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری تا مارچ کے دوران ازبکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) موجودہ قیمتوں کے حساب سے 36.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو عالمی مالیاتی اداروں کی پیش گوئیوں سے کہیں زیادہ رہی۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے ازبکستان کی معاشی شرح نمو 6.7 فیصد جبکہ عالمی بینک نے اپریل میں اپنی پیش گوئی 6 فیصد سے بڑھا کر 6.4 فیصد کر دی تھی۔ اسی طرح عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی شرح نمو کا تخمینہ 6.2 فیصد سے بڑھا کر 6.8 فیصد کیا تھا تاہم حقیقی ترقی ان تمام اندازوں سے نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
تعمیرات کا شعبہ سب سے زیادہ ترقی کرنے والا شعبہ ثابت ہوا جس میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ خدمات کے شعبے میں 8.8 فیصد اضافہ ہوا۔ صنعتی پیداوار 8 فیصد اور زرعی شعبہ 5.1 فیصد بڑھا۔مینوفیکچرنگ صنعتوں میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ آئل ریفائننگ میں 29.5 فیصد، ملبوسات اور ٹیکسٹائل کی پیداوار میں 15.3 فیصد جبکہ نٹ ویئر کی پیداوار میں 26.9 فیصد اضافہ ہوا۔ آٹو موبائل صنعت میں 12.5 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی جس میں بسوں کی پیداوار 64.7 فیصد اور ٹرکوں کی پیداوار 46.6 فیصد بڑھ گئی۔خدمات کے شعبے میں تعلیم اور مالیاتی خدمات نے نمایاں کارکردگی دکھائی اور دونوں شعبوں میں 22 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ازبکستان کی اقتصادی اصلاحات کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے اور ملک اقتصادی آزادی کے اشاریے میں 14 درجے ترقی کرتے ہوئے پہلی مرتبہ “اعتدالاً آزاد معیشتوں” کے زمرے میں شامل ہو گیا۔
عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ کے باوجود ازبک حکام نے قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو نمایاں طور پر کم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ پہلی سہ ماہی کے دوران صارف قیمتوں میں 1.93 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مارچ میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 7.1 فیصد پر آگئی، جو ایک سال قبل 10.34 فیصد تھی۔حکومت نے 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد سے کم رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے سرکاری محصولات میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ پہلی سہ ماہی میں ریاستی بجٹ آمدنی میں سالانہ بنیادوں پر 35 فیصد اضافہ ہواجبکہ ٹیکس آمدنی 24 فیصد اور کسٹمز ریونیو 20 فیصد بڑھ گیا۔سرمایہ کاری کی سرگرمیوں نےبھی ریکارڈ سطح حاصل کی۔ مجموعی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کا حجم 12.85 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 41.5 فیصد زیادہ ہے۔
براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 45.7 فیصد اضافے کے ساتھ 8.84 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔حکام کے مطابق پہلی سہ ماہی کے دوران 1,508 نئے سرمایہ کاری منصوبے شروع کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 1.185 ارب ڈالر ہے اور ان سے تقریباً 28 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔چین 6.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ ازبکستان میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار رہاجبکہ روس، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور جرمنی بھی نمایاں سرمایہ کار ممالک میں شامل رہے۔برآمدات میں بھی 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کا حجم 5.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ قدرتی یورینیم کی برآمدات تقریباً دوگنی ہو کر 402.6 ملین ڈالر جبکہ غیر آہنی دھاتوں کی برآمدات بڑھ کر 248.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ازبکستان نے اپنی برآمدی منڈیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے امریکا، آسٹریا، پولینڈ، جنوبی کوریا، ایران،قازقستان اور افغانستان سمیت 86 ممالک کو 140 سے زائد نئی مصنوعات برآمد کیں۔حکومت نے چھوٹے کاروباروں اور سماجی بہبود کے پروگراموں کو بھی جاری رکھا۔
پہلی سہ ماہی کے دوران کاروباری طبقے کو 2.9 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی گئی جبکہ 21 ہزار سے زائد مائیکرو منصوبے شروع کیے گئے، جن سے 52 ہزار افراد کی آمدنی میں بہتری آئی۔انسداد غربت اور روزگار پروگراموں کے نتیجے میں ایک لاکھ 67 ہزار مستقل ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ غربت کی شرح کم ہو کر 5 فیصد جبکہ بے روزگاری 4.7 فیصد تک آگئی۔عالمی مالیاتی فنڈ نے اپریل میں عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی 3.3 فیصد سے کم کر کے 3.1 فیصد کر دی تھی جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں کی شرح نمو 2 فیصد سے کم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں ازبکستان کی معاشی کارکردگی کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ 2026 کے دوران ازبکستان کی مجموعی اقتصادی ترقی 8.3 سے 8.7 فیصد کے درمیان برقرار رہے گی تاہم عالمی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مہنگائی جیسے چیلنجز کے باعث اصلاحات کے تسلسل، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔








