اسرائیلی سپریم کورٹ نے غزہ کے ڈاکٹر کی رہائی کی اپیل مسترد کر دی

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے فلسطینی ڈاکٹر کی رہائی کی اپیل مسترد کر دی جو 2024 کے آخر میں غزہ میں بغیر کسی الزام کے گرفتاری کے بعد سے اسرائیل کی حراست میں ہیں۔

تل ابیب۔17جون (اے پی پی):اسرائیل کی سپریم کورٹ نے فلسطینی ڈاکٹر کی رہائی کی اپیل مسترد کر دی جو 2024 کے آخر میں غزہ میں بغیر کسی الزام کے گرفتاری کے بعد سے اسرائیل کی حراست میں ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابو صفیہ غزہ کے کم از کم 14 ایسے ڈاکٹرز میں شامل ہیں جنہیں اسرائیل میں ایک سال سے زائد عرصے سے بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل (پی ایچ آر آئی) میں قیدیوں اور نظربندوں کے محکمے کے ڈائریکٹر ناجی عباس نے بیان میں بتایا کہ عدالت نے اپنے فیصلے کے لیے خفیہ مواد کو بنیاد قرار دیا جو ابو صفیہ یا ان کے وکیل کو نہیں بتایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے دیا گیا پیغام ناقابلِ تردید ہے۔ ایک میڈیکل پروفیشنل کو بغیر کسی الزام کے اور اس کے خلاف کھلی عدالت میں حکام کی جانب سے ثبوت پیش کیے بغیر غیر معینہ مدت تک آزادی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

ابو صفیہ کے وکیل اور انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر کو مناسب خوراک دینے سے انکار کیا گیا اور جیل میں ان پر حملہ کیا گیا۔ ابو صفیہ گزشتہ بدھ کو یروشلم میں سپریم کورٹ کی سماعت میں وڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے جو کافی دبلے اور کمزور نظر آ رہے تھے۔ پی ایچ آر آئی نے بتایا ہے کہ گزشتہ 13 دنوں سے ابو صفیہ کو قید تنہائی میں بھی رکھا گیا ہے۔ ابو صفیہ 2023 میں ان ڈاکٹرز میں شامل تھے جنہوں نے اسرائیلی فوج کے حکم پر درجنوں نوزائیدہ بچوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا جن کا وہ علاج کر رہے تھے۔

مزید خبریں