جی سیون سمٹ کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے اور تنقیدی آراء سامنے آئی ہیں۔
جی سیون سمٹ میں مودی کی کارکردگی پر سوشل میڈیا اور تجزیہ کاروں کی تنقید

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):جی سیون سمٹ کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے اور تنقیدی آراء سامنے آئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سرگرم بعض صارفین اور گروہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران مودی کا اندازِ گفتگو غیر معمولی دکھائی دیا۔ بعض پوسٹس میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم امریکی صدر کے سامنے اعتماد کے ساتھ مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش نہ کر سکے۔
بھارتی نوجوانوں سے منسوب ایک گروپ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے ایک طنزیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ آیا مودی بغیر ٹیلی پرامپٹر کے مؤثر انداز میں گفتگو کر سکتے ہیں یا نہیں۔دریں اثنا، بعض میڈیا رپورٹس اور تبصروں میں ملاقات کے دوران امریکی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والی گفتگو کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی گئی۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں تعاون کے ساتھ ساتھ تجارتی اور سفارتی اختلافات بھی موجود ہیں۔
بھارتی تجزیہ کار سوشانت سارین کے مطابق واشنگٹن نے نئی دہلی کے ساتھ تعلقات میں بعض معاملات پر دباؤ کی پالیسی برقرار رکھی ہے جبکہ بھارتی حکومت ان معاملات کو مختلف انداز میں پیش کر رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جی سیون سمٹ کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور سفارتی روابط کے اثرات کا اندازہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات اور پالیسی فیصلوں کی روشنی میں زیادہ واضح ہو سکے گا۔







