اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا۔ بی بی سی کے مطابق اسرائیلی حکومت نے ستمبر میں کہا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کردے گی اور یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں پر برطانیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا تھا
اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا

مزید خبریں
مقبوضہ بیت المقدس ۔8اکتوبر (اے پی پی):اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا۔ بی بی سی کے مطابق اسرائیلی حکومت نے ستمبر میں کہا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کردے گی اور یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں پر برطانیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا تھا تاہم برطانیہ کا اصرار ہے کہ قونصل خانہ بند نہیں کیا جا رہا اور برطانوی مشن کے طور پر کام جاری رکھے گا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے میں قائم برطانوی قونصل خانے سے زیادہ تر سفارت کار واپس چلے جائیں گے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیدون سار نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ بات یہاں تک پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ 20 سفارت کار اور قونصل جنرل اسرائیل چھوڑ دیں گے جبکہ 7 افراد پر مشتمل ایک ٹیم عمارت میں رہ سکتی ہے لیکن اس کی سرگرمیوں کا دائرہ بہت محدود ہوگا۔
برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جواب میں کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض اہلکاروں کو عارضی طور پر واپس بلا لیا گیاہے، تاہم انھوں نے زور دیا کہ یہ مشن فلسطینی عوام کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔برطانوی حکومت 1838 میں قائم ہونے والے اس قونصل خانے کو مقبوضہ بیت المقدس کے علاوہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔یہ تل ابیب میں واقع برطانوی سفارت خانے سے الگ ہے، جو اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی تعلقات کا بنیادی مرکز ہے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیدون سارنے کہا کہ ملک نے 8 ستمبر کو برطانوی پابندیوں کے جواب میں اعلان کردہ اقدامات پر عمل درآمد کر دیا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ اپنی سرگرمیاں بند کر رہا ہے۔ اسی مناسبت سے مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانے کا سائن ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم جمعرات کی صبح عمارت کے باہر برطانوی پرچم اب بھی لہراتا ہوا دیکھا گیا جبکہ متعدد اہلکاروں کو عمارت میں داخل ہوتے بھی دیکھا گیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ یہ عمارت برطانوی حکومت کی ملکیت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے عمارت میں کام جاری رکھنے کے لیے صرف سات سفارت کاروں پر مشتمل ایک ٹیم کو محدود پیمانے پر سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔







