اسرائیل کی 52 دنوں میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی 591 مرتبہ خلاف ورزی، 347 فلسطینیوں کو شہید، 889 کو زخمی کیا، رپورٹ

غزہ ۔1دسمبر (اے پی پی):اسرائیل نے گزشتہ دو ماہ سے بھی کم وقت میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی کم از کم 591 مرتبہ خلاف ورزی کرتے ہوئے ان میں کم از کم 347 فلسطینیوں کو شہید اور 889 کو زخمی کیا ہے۔ یہ بات الجزیرہ کی طرف سے جاری رپورٹ میں بتائی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے …

غزہ ۔1دسمبر (اے پی پی):اسرائیل نے گزشتہ دو ماہ سے بھی کم وقت میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی کم از کم 591 مرتبہ خلاف ورزی کرتے ہوئے ان میں کم از کم 347 فلسطینیوں کو شہید اور 889 کو زخمی کیا ہے۔ یہ بات الجزیرہ کی طرف سے جاری رپورٹ میں بتائی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے، اسرائیل نے تقریباً روزانہ حملوں سے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے 10 اکتوبر سے 29 نومبر تک فضائی، توپ خانے اور براہ راست فائرنگ کے ذریعے حملوں کے ذریعے کم از کم 591 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔دفتر نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی شہریوں پر 164 بار فائرنگ کی ، اسرائیلی فوج نے 25 بار "یلو لائن” سے باہر رہائشی علاقوں پر حملہ کیا، 280 بار غزہ پر بمباری اور گولہ باری کی، اور 118 مواقع پر لوگوں کی املاک کو مسمار کیا۔ اس میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے گزشتہ ماہ کے دوران غزہ سے 35 فلسطینیوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے انسانی ہمدردی کی بنیاد امداد کو روکنے اور غزہ میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنگ بندی معاہدے کی شرائط میں غزہ میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیل کی طرف سے غزہ کی تمام امداد کی ناکہ بندی کو ہٹانا اور امداد کی تقسیم میں مداخلت بند کرنا، فلسطینی عسکریت پسندوں کی طرف سے غزہ میں قید تمام اسیروں کی رہائی یا مرجانے کی صورت میں لاشوں کی واپسی،اسرائیلی جیلوں سے تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں اور لاپتہ افراد کی رہائی اور اسرائیلی افواج کا "یلو لائن” سے انخلا شامل ہیں۔

مصر، قطر اور ترکی سمیت شراکت داروں کی ثالثی کے بعد، تقریباً 30 ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں 13 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب منعقد ہو ئی تھی۔ جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے جبکہ امریکا نے غزہ کے مستقبل کے بارے میں صرف مبہم بیانات دیئےہیں۔

الجزیرہ کے اعداد وشمار کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد گزشتہ 52 دنوں میں سے 41 دنوں میں غزہ پر حملے کئے اور صرف 11 دن ایسے تھے جن کے دوران غز ہ میں کسی اسرائیلی فوجی حملے یا غزہ کے کسی مکیں کے شہید و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اس ساری صورت حال میں امریکا اب بھی اس بات پر مصر ہے کہ غزہ میں جنگ "جنگ بندی” اب بھی برقرار ہے۔

جنگ بندی معاہدے کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ غزہ میں فوری طور پر مکمل امداد بھیجی جائے گی تاہم ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق اس وقت خوراک کی صرف نصف مطلوبہ امداد غزہ پہنچ رہی ہے، جب کہ فلسطینی امدادی اداروں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ کل امداد کی ترسیل جنگ بندی کے تحت طے پانے والے امداد کا صرف ایک چوتھائی ہے۔غزہ میں انسانی امداد کی نگرانی کرنے والے UN2720 مانیٹرنگ اینڈ ٹریکنگ ڈیش بورڈ کے مطابق 10 اکتوبر سے 29 نومبر تک صرف 6,102 ٹرک غزہ کے اندر اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچے ہیں۔

مزید خبریں