اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 2025: ایک شہر، کئی ملک اور یادوں میں بس جانے والے 18 دن

خرم شہزاد ریاض۔22نومبر (اے پی پی):ریاض پہنچتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ دن عام نہیں ہونے والے۔ ایئرپورٹ سے لے کر شاہراہوں، اسٹیڈیمز اور شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی تک ہر طرف اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 2025 کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ بینرز، رضاکار، استقبالیہ مراکز اور جدید سہولیات اس بات کا ثبوت تھیں کہ سعودی عرب ایک عظیم الشان بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی کے لیے پوری …

خرم شہزاد

ریاض۔22نومبر (اے پی پی):ریاض پہنچتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ دن عام نہیں ہونے والے۔ ایئرپورٹ سے لے کر شاہراہوں، اسٹیڈیمز اور شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی تک ہر طرف اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 2025 کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ بینرز، رضاکار، استقبالیہ مراکز اور جدید سہولیات اس بات کا ثبوت تھیں کہ سعودی عرب ایک عظیم الشان بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔مین میڈیا سینٹر میں رجسٹریشن کے بعد جب دنیا بھر سے آئے صحافیوں، جدید ٹیکنالوجی اور منظم انتظامات کو دیکھا تو یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ یہ صرف کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ اتحاد و یکجہتی کا ایک عالمی مشن ہے۔

اگلے روز ایتھلیٹس ویلج کا دورہ کیا گیا جو شہزادی نورہ یونیورسٹی میں قائم تھا۔ مختلف زبانیں، مختلف رنگ اور مختلف ثقافتیں ،مگر مقصد ایک۔ افریقی ایتھلیٹس کی صبح کی دوڑ، وسط ایشیائی پہلوانوں کی بھرپور مشق، عرب کھلاڑیوں کا اعتماد اور خواتین ایتھلیٹس کی باوقار موجودگی اس نئے اسلامی منظرنامے کی عکاسی کر رہی تھی جہاں عزم، حوصلہ اور امید مشترک تھے۔جوں جوں دن گزرتے گئے، ریاض کی رونق اور تیاری میں اضافہ ہوتا گیا۔ اسٹیڈیمز کی دلکش سجاوٹ، ٹرانسپورٹ کا منظم نظام، سخت مگر خوش اخلاق سکیورٹی اور رضاکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ یہ ظاہر کر رہی تھی کہ پورا شہر ایک ہی جذبے کے تحت سانس لے رہا ہے۔ مقابلوں سے پہلے ہی ماحول جشن کا سا منظر پیش کر رہا تھا۔افتتاحی تقریب خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی نمائندگی میں گورنر ریاض شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔

اس لمحے نے نہ صرف اس ایونٹ کی عظمت کو دوچند کیا بلکہ اسلامی دنیا کے لیے ایک واضح پیغام بھی دیا کہ کھیل اتحاد کی سب سے مضبوط زبان ہے۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد جدید لائٹس، شاندار ڈرون شو اور سعودی تہذیب و ثقافت پر مبنی پرفارمنسز نے فضا کو مسحور کر دیا۔ ڈرون شو میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک ایک روحانی سفر کو دکھایا گیا، جو 57 شریک ممالک کی علامتی نمائندگی کرتا تھا جبکہ روایتی قہوہ اور ربابہ کی دھنیں سعودی مہمان نوازی کا حسین عکس تھیں۔سعودی وزیرِ کھیل اور اسلامی یکجہتی اسپورٹس ایسوسی ایشن (ISSA) کے صدر شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کھیل صرف مقابلے نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے اتحاد، بھائی چارے اور دوستی کا عملی اظہار ہیں اور ریاض کا انتخاب ولی عہد کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جو کھیلوں کے ذریعے دنیا کو قریب لانا چاہتے ہیں۔

چار سعودی کھلاڑیوں عبدالرحمن القحطانی، دنیا ابو طالب، حمدان البیشی اور سلطان الداوودی نے گیمز کا پرچم بلند کیا جبکہ ایتھلیٹس اور آفیشلز کی جانب سے حلف برداری نے دیانت، انصاف اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو اجاگر کیا۔یہ افتتاحی تقریب 40 بین الاقوامی ٹی وی چینلز اور دو عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر براہِ راست نشر کی گئی، جو اس ایونٹ کی عالمی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔جب 57 ممالک کے دستے ایک ساتھ میدان میں داخل ہوئے اور تھیم ’’ون نیشن‘‘ گونجا، تو یوں محسوس ہوا جیسے یہ سب ایک ہی جسم اور ایک ہی روح کا حصہ ہوں۔ اس لمحے کھیل ایک واضح پیغام بن چکا تھا ،اتحاد، امن اور اخوت کا۔افتتاح کے بعد مقابلوں کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ پہلا گولڈ میڈل ترکیہ کی گمزی آلتون نے ویٹ لفٹنگ میں جیتا اور یوں ان گیمز کا آغاز ہی سنہری ہو گیا۔

 

اس کے بعد فٹسال، والی بال، سوئمنگ، جوڈو، باکسنگ اور ایتھلیٹکس کے مقابلے شروع ہوئے اور اسٹیڈیمز شائقین سے بھر گئے۔ میڈیا سینٹر میں ہر لمحہ نئی خبر، نیا ریکارڈ اور نئی کہانی جنم لے رہی تھی۔چند ہی دنوں میں مختلف کھیلوں میں واضح برتریاں سامنے آنے لگیں۔ایتھلیٹکس میں ترکیہ، بحرین اور مراکش نمایاں رہے، ریسلنگ میں کرغزستان نے کلین سوئپ کیا، جیوجٹسو میں سعودی عرب کی مضبوط گرفت دیکھنے کو ملی، والی بال میں ترکیہ اور آذربائیجان ناقابل شکست نظر آئے جبکہ فٹسال میں سعودی عرب اور ازبکستان چھائے رہے۔ ہر دن ایک نیا ہیرو ابھرتا اور ایک نئی کہانی رقم ہوتی رہی۔اونٹ دوڑ کے دن ماحول یکسر بدل گیا۔ سعودی عرب نے اس روایتی کھیل میں اپنی تاریخی اور ثقافتی برتری ثابت کی۔

یہ مقابلہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ سعودی شناخت، روایت اور ورثے کی جیتی جاگتی تصویر تھا، جسے عالمی میڈیا نے بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔خواتین مقابلوں نے اس ایونٹ کو ایک نئی جہت دی۔ مختلف اسلامی ممالک کی خواتین ایتھلیٹس نے شاندار کارکردگی دکھا کر یہ ثابت کیا کہ اسلامی دنیا میں خواتین بھی کھیلوں کے میدان میں مضبوط مقام حاصل کر رہی ہیں۔ یہ لمحہ ایک نئے اور بااختیار مستقبل کی علامت تھا۔ایران اور آذربائیجان کی کارکردگی بھی نمایاں رہی۔ ایران کے رنر علی امیریان نے 800 میٹر میں گولڈ میڈل جیت کر سب کی توجہ حاصل کی جبکہ آذربائیجان کے پہلوانوں نے سلور اور براؤنز میڈلز اپنے نام کیے۔ میڈل ٹیبل پر مقابلہ لمحہ بہ لمحہ مزید سنسنی خیز ہوتا گیا۔دن گزرتے گئے اور میڈلز کی دوڑ تیز تر ہوتی گئی۔ سعودی عرب مسلسل برتری کی جانب بڑھتا رہا، ترکیہ اور ایران مضبوط تعاقب میں رہے جبکہ مراکش اور ازبکستان نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔

میڈیا سینٹر میں سب سے بڑا سوال یہی تھا: کون سب سے آگے رہے گا؟اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 2025 کے میڈل مقابلوں میں مجموعی طور پر ترکیہ، ازبکستان اور ایران سرفہرست رہے جبکہ میزبان سعودی عرب نے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ متعدد کھیلوں میں سخت اور سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے جن میں ایتھلیٹکس، ریسلنگ، جوجِتسو، ہینڈبال اور دیگر ایونٹس شامل تھے۔ پاکستان نے 54 رکنی دستے کے ساتھ ایک گولڈ، ایک سلور اور تین براؤنز سمیت مجموعی طور پر 5 میڈلز جیت کر 24ویں پوزیشن حاصل کی۔ آخرکار وہ لمحہ آ پہنچا جب اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ آتش بازی، ثقافتی پروگرام، کھلاڑیوں کے روشن چہرے اور رضاکاروں کی مسکراہٹ اس بات کا واضح ثبوت تھے کہ یہ ایونٹ ہر زاویے سے کامیاب رہا۔

فضا میں گونجتا پیغام بالکل واضح تھا: اگر اسلامی دنیا متحد ہو جائے تو کوئی منزل دور نہیں۔یوں اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 2025 اپنے اختتام کو پہنچیں ، مگر ان کی یادیں، لمحات اور پیغام دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ پاکستان سمیت 57اسلامی ممالک سے آئے ہوئے ایکریڈیٹیڈ میڈیا کی جانب سے سعودی حکومت، وزارتِ کھیل، منتظمین اور رضاکاروں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ کہ انہوں نے ہمیں اس تاریخی اور یادگار ایونٹ کا حصہ بننے کا موقع فراہم کیا۔

ریاض نے صرف گیمز کی میزبانی نہیں کی بلکہ قوموں کے دلوں کو جوڑ کر دنیا کو اتحاد کا طاقتور پیغام دیا۔اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 4 نومبر سے 21 نومبر تک جاری رہیں اور اختتامی تقریب کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچیں، جہاں اسلامی دنیا کے درجنوں ممالک نے نہ صرف کھیلوں میں بہترین صلاحیتوں کا اظہار کیا بلکہ اتحاد، یکجہتی اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔

مزید خبریں