اسلام آباد میں انسدادِ پولیو کی چار روزہ مہم شروع، 4 لاکھ 47 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

وفاقی دارالحکومت میں انسدادِ پولیو کی چار روزہ خصوصی مہم کا آغاز کر دیا گیاجس کے دوران 18 سے 21 مئی تک پانچ سال سے کم عمر 4 لاکھ 47 ہزار 614 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔مہم کا باقاعدہ افتتاح ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے …

اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت میں انسدادِ پولیو کی چار روزہ خصوصی مہم کا آغاز کر دیا گیاجس کے دوران 18 سے 21 مئی تک پانچ سال سے کم عمر 4 لاکھ 47 ہزار 614 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔مہم کا باقاعدہ افتتاح ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے لازمی طور پر پولیو ویکسین کے قطرے پلوائیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر بھر میں ویکسینیشن سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر عارضی کیمپ قائم کیے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

حکام نے بتایا کہ پولیو ٹیمیں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز اور دیہی علاقوں میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی جبکہ دشوار گزار علاقوں کے لیے موبائل ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں تاکہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔ڈپٹی کمشنر عرفان میمن نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور فیلڈ ٹیموں کے باہمی تعاون سے مہم کو کامیاب بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے شہریوں کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی کہ وہ پولیو ورکرز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور گھروں پر آنے والی ٹیموں کا خیرمقدم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین بچوں کو مہلک وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بار بار حفاظتی مہمات بھی ضروری ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق مہم میں سینکڑوں ہیلتھ ورکرز، سپروائزرز اور رضاکار حصہ لے رہے ہیں۔ فیلڈ سرگرمیوں کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔حکام نے بتایا کہ والدین میں آگاہی بڑھانے اور ویکسین سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں آگاہی مہم بھی جاری ہےجبکہ عوامی اعلانات اور کمیونٹی آؤٹ ریچ سرگرمیوں میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔

 

مزید خبریں