اسلام آباد میں ’’کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں‘‘ مہم کے تحت سکول سے باہر 2328 بچوں کو داخلہ دیا جا چکا ہےجو وفاقی دارالحکومت کے ہر بچے کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی مہم کی ابتدائی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے
اسلام آباد میں تعلیمی مہم کے تحت 2300 سے زائد بچوں کا داخلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):اسلام آباد میں ’’کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں‘‘ مہم کے تحت سکول سے باہر 2328 بچوں کو داخلہ دیا جا چکا ہےجو وفاقی دارالحکومت کے ہر بچے کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی مہم کی ابتدائی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے مارچ 2026 میں شروع کی گئی اس مہم کا مقصد اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں سکول سے باہر بچوں کی نشاندہی، ان کا داخلہ اور انہیں تعلیمی نظام میں برقرار رکھنا ہے، خواہ وہ رسمی یا غیر رسمی تعلیمی ادارے ہوں۔دستاویز کے مطابق مہم کے تحت گھر گھر سروے کے دوران 22,057 ایسے بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو سکول نہیں جا رہے تھے۔ ان میں سے 2,328 بچوں کا پہلے ہی داخلہ ہو چکا ہےجبکہ باقی بچوں کو بھی تعلیمی نظام میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں،یہ مہم یونین کونسل کی سطح پر جامع کوریج کی حکمت عملی کے تحت چلائی جا رہی ہےجس میں گھریلو سروے، کمیونٹی کی شمولیت اور حقیقی وقت میں نگرانی شامل ہے۔ اب تک 31 یونین کونسلوں میں سروے کا کام مکمل کیا جا چکا ہےجبکہ مزید پانچ یونین کونسلوں میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ مہم کے پہلے مرحلے میں اپریل تا جون 2026 کے دوران آئی سی ٹی کی 50 یونین کونسلوں میں سے 36 دیہی یونین کونسلوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو داخلے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر ہدف بنایا گیا ہےجبکہ پہلے مرحلے میں سکول سے باہر 25,000 بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔داخلہ مہم کو مؤثر بنانے کے لیے وفاقی نظامتِ تعلیم کے تحت چلنے والے سکولوں میں بچوں کے داخلے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پسماندہ علاقوں میں غیر رسمی تعلیمی مراکز اور کمیونٹی سکولوں سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہےجبکہ بعض بچوں کو نجی سکولوں میں داخلے کے لیے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس بھی بھیجا جا رہا ہے۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ تعلیمی نظام میں شامل ہونے والے طلبہ کو سکول کا سامان، یونیفارم، تدریسی و تعلیمی مواد اور تدریسی کٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ 1,100 سے زائد اہل افراد کو بطور اساتذہ تعینات کیا گیا ہے اور انہیں جامع تربیت بھی دی گئی ہے۔مہم کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار کو نان فارمل ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم میں شامل کیا جا رہا ہےجو ایک آن لائن پلیٹ فارم ہے اور اس کے ذریعے شناخت شدہ بچوں اور داخلہ مہم کی پیش رفت کی نگرانی کی جاتی ہے۔اس اقدام میں متعدد ادارے شریک ہیں جن میں وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز، نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن، غیر سرکاری تنظیمیں، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق پروگرام کے اگلے مرحلے میں تمام شناخت شدہ بچوں کے داخلے کی رفتار تیز کرنے، باقی یونین کونسلوں میں سروے مکمل کرنے، تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنانے اور ایسے مؤثر نظام قائم کرنے پر توجہ دی جائے گی تاکہ داخلہ لینے والے بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔








