اسلام آباد میں 95 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے تین ملٹی سپورٹس کمپلیکس قائم کرنے کا منصوبہ
اسلام آباد میں 95 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے تین ملٹی سپورٹس کمپلیکس قائم کرنے کا منصوبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)نے وفاقی دارالحکومت میں کھیلوں کی سہولیات کو وسعت دینے کے لئے ڈی 12/1، جی 11/3 مرکز اور ایف 8 مرکز میں مجموعی طور پر تقریباً 95 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے تین ملٹی سپورٹس کمپلیکس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔منصوبے کے تحت ان کمپلیکسز میں انڈور سوئمنگ پولز، جم، فٹسال کورٹس، کرکٹ پریکٹس کیجز، پیڈل کورٹس، باسکٹ بال کی سہولیات اور کثیر المقاصد سپورٹس ہالز تعمیر کیے جائیں گےجس سے شہریوں، طلبہ اور نوجوان کھلاڑیوں کو کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کے لئے جدید سہولیات میسر آسکیں گی۔منصوبے کا مقصد شہریوں کو ان کی رہائش گاہوں کے قریب کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا اور انہیں صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مزید مواقع دینا ہے۔
ان کمپلیکسز کے قیام سے مقامی کھلاڑیوں اور کھیلوں کے شوقین افراد کو مناسب مقامات کی تلاش میں شہر کے مختلف علاقوں کا سفر کرنے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔سی ڈی اے کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایا کہ تعمیراتی کام مکمل ہونے اور سہولیات فعال ہونے کے بعد ان کے انتظامی امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اتھارٹی نے تاحال ممبرشپ فیس، طلبہ اور رجسٹرڈ سپورٹس کلبوں کے لئے رعایتوں اور کمپلیکسز کو براہ راست چلانے یا نجی آپریٹرز کے ذریعے انتظام کرنے سے متعلق تفصیلات کا اعلان نہیں کیا۔
کھیلوں کی سہولیات تک عام شہریوں کی رسائی کے لئے مناسب فیس،شفاف بکنگ نظام اورتربیتی سیشنز کا تعین اہم ہوگا۔ ان انتظامات سے طلبہ، خاندانوں اور شوقیہ کھلاڑیوں کو سہولیات سے مستفید ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔پاکستان سپورٹس بورڈ کےزیرانتظام پاکستان سپورٹس کمپلیکس کے مختلف ممبرشپ پیکجز میں رجسٹریشن فیس 5 ہزار سے 30 ہزار روپے جبکہ ماہانہ فیس ڈیڑھ ہزار سے 5 ہزار روپے تک رہی ہےجس کا انحصار کھیل اور پیکج پر ہوتا ہے۔اسی طرح کمرشل پیڈل کورٹس کے فی گھنٹہ چارجز تقریباً 2 ہزار روپے جبکہ سی ڈی اے کے زیرانتظام بعض کرکٹ گراؤنڈز میں میچز کے لئے بکنگ فیس تقریباً 15 ہزار روپے یومیہ تک رہی ہے۔
تاہم، یہ نرخ مختلف مقامات اور بکنگ کی اقسام کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں اور انہیں مجوزہ سپورٹس کمپلیکسز کی ممکنہ فیس کا پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔کھیلوں کے ایک کلب کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ نئے کمپلیکسز مقامی کلبوں کے لئے تربیت کے قیمتی مواقع فراہم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ بکنگ کے اخراجات قابل برداشت ہوں۔انہوں نے کہا کہ اگر ممبرشپ یا فی گھنٹہ فیس زیادہ ہوئی تو نچلی سطح پر کام کرنے والے کلب ان سہولیات سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے رجسٹرڈ کلبوں اور نوجوان کھلاڑیوں کی اکیڈمیوں کے لئے رعایتی تربیتی اوقات مختص کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔مجوزہ کمپلیکسز سے لڑکیوں اور خواتین کے لئے بھی کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
مناسب اوقات، معقول فیس،موزوں سہولیات اور مؤثر حفاظتی انتظامات خواتین کی کھیلوں میں شرکت کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ایک طالبہ نے کہا کہ اگر ان مراکز میں خواتین کے لئے مناسب سہولیات، محفوظ ماحول، آسان اوقات اور قابل برداشت فیس فراہم کی جائے تو مزید لڑکیاں کھیلوں میں حصہ لے سکیں گی۔ ان کے مطابق مناسب سہولیات تک رسائی، باقاعدہ سیشنز کے اخراجات اور خاندانی مصروفیات اکثر لڑکیوں کی کھیلوں میں شرکت میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ڈی 12 کے رہائشی مراد خان نے کہا کہ ان کے سیکٹر میں مجوزہ کمپلیکس مقامی شہریوں کو شہر کےدوسرے علاقوں میں سفر کرنے یا نجی کلبوں کے نرخ ادا کرنے کے بجائے قریب ہی کھیلوں کی سہولیات فراہم کر سکتا ہے، بشرطیکہ ان کی فیس مناسب رکھی جائے۔
دستیاب منصوبہ جاتی تفصیلات کے مطابق ڈی 12/1 میں تقریباً 4.2 ایکڑ رقبے پر 32 کروڑ 70 لاکھ روپے کی تخمینی لاگت سے کمپلیکس قائم کیا جائے گا۔جی 11/3 مرکز میں تقریباً 3.5 ایکڑ رقبے پر 31 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ ایف 8 مرکز میں تقریباً 3.2 ایکڑ رقبے پر 30 کروڑ 70 لاکھ سے 30 کروڑ 80 لاکھ روپے کی تخمینی لاگت سے کمپلیکس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ تینوں منصوبوں کی مجموعی تخمینی لاگت تقریباً 95 کروڑ 10 لاکھ سے 95 کروڑ 20 لاکھ روپے بنتی ہے، جبکہ حتمی منظور شدہ رقم کی تصدیق اہم ہوگی۔منصوبوں کے لئے فنڈز سی ڈی اے کے وسائل سے فراہم کیے جائیں گے اور ٹھیکے کھلی مسابقتی بولی کے ذریعے دیے جائیں گے۔ دستیاب منصوبہ جاتی معلومات کے مطابق تعمیراتی کام شروع ہونے کے بعد اسے تقریباً ایک سال میں مکمل کرنے کی توقع ہے۔
کمپلیکسز کی تکمیل کے بعد ان کی دیکھ بھال، تربیت یافتہ عملے کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا ضروری ہوگا، خصوصاً سوئمنگ پولز اور کھیلوں کی خصوصی سہولیات کے لئے مؤثر اور پائیدار انتظامی نظام ان مراکز کے معیار کو برقرار رکھنے اور مقامی آبادی کے لئے ان کی افادیت یقینی بنانے میں اہم ہوگا۔طلبہ کے لئے رعایتیں، گروپ بکنگ کی سہولت اور رجسٹرڈ کلبوں کے لئے مخصوص تربیتی اوقات کھیلوں میں شرکت کے دائرے کو مزید وسیع کر سکتے ہیں۔ ممبرشپ فیس، اوقات کار اور بکنگ کے طریقہ کار سے متعلق واضح معلومات بھی شہریوں کو سہولیات کے استعمال کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کریں گی۔
یہ سرمایہ کاری اسلام آباد میں تفریحی اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے ساتھ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے، اعتماد بڑھانے اور صحت مند مسابقت میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔مؤثر انتظام اور قابل رسائی سہولیات کی صورت میں یہ کمپلیکسز مقامی آبادی کے لیے سرگرم مراکز بن سکتے ہیں، جو نچلی سطح پر کھیلوں کے فروغ اور شہریوں کو زیادہ فعال طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دیں گے۔ان منصوبوں کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار صرف کھیلوں کے میدانوں، سوئمنگ پولز اور اسپورٹس ہالز کی تعمیر پر نہیں ہوگا بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ یہ سہولیات کس حد تک اسلام آباد کے شہریوں کی ضروریات پوری کرتی اور مستقبل کے کھلاڑیوں کی تربیت میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔








