اسلام آباد کی آبادی 24 لاکھ تک پہنچ چکی ہے ، دارالحکومت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے فوری ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں، احسن اقبال
اسلام آباد کی آبادی 24 لاکھ تک پہنچ چکی ہے ، دارالحکومت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے فوری ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی آبادی اب 24 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جس کے باعث دارالحکومت کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتی شہری ضروریات کے پیشِ نظر گورننگ ڈھانچے کی جدید کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔اسلام آباد گورننس ماڈل پر پہلے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو ایک جدید گورننس ماڈل کی ضرورت ہے جو عوامی توقعات پر پورا اتر سکے جبکہ دارالحکومت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے فوری ادارہ جاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مجوزہ ماڈل کے تحت آئی سی ٹی حکومت کو ایک صوبائی حکومت کے مساوی انتظامی اور مالی خودمختاری حاصل ہوگی، صحت، تعلیم، ماحولیات اور عوامی خدمات سمیت تمام اہم شعبوں کی ذمہ داریاں منتخب حکومت کو منتقل کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی منتخب حکومت کو ان شعبوں میں مکمل اختیارات اور ذمہ داریاں سونپی جائیں گی تاکہ ایک مؤثر، شفاف اور جوابدہ نظامِ حکمرانی قائم کیا جا سکے۔
مجوزہ آئی سی ٹی گورننس ماڈل کے تحت دارالحکومت کی منتخب حکومت انتظامی و مالی خودمختاری کے ساتھ عوامی خدمات کی فراہمی کی مکمل ذمہ دار ہوگی۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ اسلام آباد میں مقامی قانون سازی کے لئے اس وقت کوئی بااختیار فورم موجود نہیں جس کے باعث ایک نمایاں خلا ء موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس خلا ء کو پُر کرنے کے لئے 27 رکنی اسلام آباد اسمبلی کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اسمبلی کے قیام سے مقامی قانون سازی کا دیرینہ خلا ء پُر کیا جا سکے گا اور دارالحکومت کے شہری مسائل کے حل کے لئے ایک مؤثر نمائندہ فورم دستیاب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کی تیاری کے لئے دنیا کے مختلف دارالحکومتوں کے گورننس ماڈلز کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے، عالمی بہترین تجربات اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد کا نیا گورننس ماڈل تشکیل دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد کے لئے تجویز کردہ انتظامی ڈھانچہ ایک ارتقائی فریم ورک ہے جسے وقت کے ساتھ مزید بہتر بنایا جا سکے گا، یہ ایک سمارٹ گورننس ماڈل ہوگا جو شہر کی بڑھتی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالتا رہے گا جبکہ اسلام آباد کی ترقی اور توسیع کے ساتھ گورننس کا نظام بھی مسلسل ارتقا پذیر رہے گا۔انہوں نے کہا کہ نیا گورننس ماڈل اسلام آباد میں شفاف، مؤثر اور جوابدہ نظامِ حکمرانی کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی جوابدہی کا آغاز شہری قیادت اور عوامی شمولیت سے ہوتا ہے، اسی لئے شہریوں کو اس اصلاحاتی عمل میں مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے مستقبل کے حوالے سے قومی مشاورت میں شہریوں کی بھرپور شرکت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد کے مستقبل کی تشکیل کے لئے مشاورتی عمل میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی آواز اہم ہے اور انہیں اسلام آباد کے نئے گورننس ماڈل پر جاری مشاورت میں شامل ہو کر اپنی آرا ء سے اس عمل کو مضبوط بنانا چاہیے۔








