اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے کہا کم عمری کی شادی شریعت میں باطل نہیں، مگر قانون کے تحت جرم ہے۔ عدالت نے فیصلے میں حکومت کو سفارش کی جس میں کہا گیا ہے کہ نادرا کے سسٹم کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ …
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے کہا کم عمری کی شادی شریعت میں باطل نہیں، مگر قانون کے تحت جرم ہے۔ عدالت نے فیصلے میں حکومت کو سفارش کی جس میں کہا گیا ہے کہ نادرا کے سسٹم کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ جاری نہ ہو اور نکاح رجسٹراروں کو پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی نہ کریں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے کم عمری کی شادی سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی مدیحہ بی بی کو اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ مدیحہ بی بی نے عدالت میں دیئے گئے بیان میں والدین کے پاس نہ جانے اور شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ کرائسز سنٹر میں قیام کے دوران بھی لڑکی نے اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنے کا کہا۔اگرچہ شریعت کے مطابق بلوغت اور رضامندی کے بعد نکاح درست ہے تاہم اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمر میں شادی جرم ہے۔ نکاح نامے میں دلہن کی عمر تقریباً 18 سال درج کی گئی جبکہ نادرا ریکارڈ کے مطابق عمر 15 سال ہے۔
عدالتی فیصلے میں سفارش کی گئی ہے کہ شادی، نابالغی اور فوجداری قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ نکاح رجسٹراروں کو پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی نہ کریں۔ نادرا کے سسٹم کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ جاری نہ ہو۔ عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ کم عمری کی شادی کے نقصانات سے بچا جا سکے۔عدالتی فیصلے میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929، مسلم فیملی لاز آرڈی نینس 1961 کے حوالہ جات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
عدالت نے فیصلے میں حکومت کو سفارشات دیتے ہوئے اس کی کاپی تمام متعلقہ وزارتوں اور فیملی کورٹس ججز کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی۔ عدالت نے لکھا کہ اس فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان ، وزارت قانون، وزارت انسانی حقوق، وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈی جی نادرا، سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل، ڈسٹرکٹ کورٹ، فیملی ججز اور گارڈین کورٹس کے ججز کو بھی بھجوائی جائے۔








