اعلیٰ تعلیم کے طلبہ کی تعداد 20 سال میں دگنی، مگر عدم مساوات برقرار، اقوام متحدہ رپورٹ
اعلیٰ تعلیم کے طلبہ کی تعداد 20 سال میں دگنی، مگر عدم مساوات برقرار، اقوام متحدہ رپورٹ

مزید خبریں
اقوام متحد ہ۔13مئی (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کی نئی عالمی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، تاہم مختلف خطوں اور صنفی سطح پر نمایاں عدم مساوات اب بھی برقرار ہے۔
شنہوا کے مطابق رپورٹ کے مطابق سال 2000 میں دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے طلبہ کی تعداد تقریباً 10 کروڑ تھی جو 2024 تک بڑھ کر 26 کروڑ 90 لاکھ تک پہنچ گئی۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خطوں میں واضح تفاوت موجود ہے۔
مغربی یورپ اور شمالی امریکا میں تقریباً 80 فیصد نوجوان اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لیتے ہیں، جبکہ سب صحارا افریقہ میں یہ شرح صرف 9 فیصد ہے۔اسی طرح عالمی سطح پر صرف 3 فیصد طلبہ ہی بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، جو عالمی تعلیمی مواقع کی محدود رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی نمائندگی اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ درجوں، خصوصاً ڈاکٹریٹ لیول پر کم ہے، جبکہ اکیڈمیا کی قیادت کے عہدوں میں خواتین کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہے۔رپورٹ کے مطابق پناہ گزین اور جبری طور پر بے گھر افراد کو تعلیمی اسناد کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے، خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں۔
یونیسکو نے اس مسئلے کے حل کے لیے “کوالیفیکیشن پاسپورٹ ” متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اہلیت کو تسلیم کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔








