اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے لیے بھی ادارہ جاتی تحفظات ضروری ہیں،ہر ہائی کورٹ میں آزاد "جوڈیشل ریکروٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ” کا قیام ہونا چاہیے،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے لیے بھی ادارہ جاتی تحفظات ضروری ہیں،ہر ہائی کورٹ میں آزاد "جوڈیشل ریکروٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ" کا قیام ہونا چاہیے ۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس نے جمعہ کو نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے …

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے لیے بھی ادارہ جاتی تحفظات ضروری ہیں،ہر ہائی کورٹ میں آزاد "جوڈیشل ریکروٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ” کا قیام ہونا چاہیے ۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس نے جمعہ کو نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے 55ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ، تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور اٹارنی جنرل برائے پاکستان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔اجلاس میں 54ویں میٹنگ کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مؤثر، تیز اور شفاف بنانے کے لیے پالیسی سطح پر اہم امور پر غور کیا گیا۔

کمیٹی نے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ، انصاف تک تیز رسائی اور عدلیہ کے تمام درجات کے مابین ادارہ جاتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اٹارنی جنرل برائے پاکستان نے اجلاس کو بتایا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی شق 11EEEE میں حالیہ ترمیم کے بعد جبری گمشدگیوں کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو چکا ہے، جس کے تحت زیر حراست شخص کو 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس قانون پر عملدرآمد کے لیے ایک جامع طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا۔چیف جسٹس نے تمام ہائی کورٹس کی جانب سے ضلعی عدلیہ کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مرتب کردہ ایس او پیز کی تعریف کی اور کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے لیے بھی ایسے ادارہ جاتی تحفظات ضروری ہیں۔

انہوں نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کی تجویز پیش کی جنہیں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ تمام چیف جسٹس صاحبان نے ان ترامیم کی متفقہ طور پر تائید کی۔کمیٹی نے تجارتی، مالیاتی اور ریونیو مقدمات میں تاخیر کم کرنے کے لیے ذیلی کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لیا۔ لاہور ہائی کورٹ کی اسپیشل ٹیکس بینچز کی جانب سے صرف تین ہفتوں میں 922 مقدمات نمٹانے پر خصوصی طور پر سراہا گیا۔کمیٹی نے اس امر پر اطمینان ظاہر کیا کہ ہائی کورٹس نے مختلف نوعیت کے مقدمات کے فیصلے کے لیے مخصوص مدت مقرر کر دی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ایبٹ آباد میں پہلی ڈبل ڈاکٹ کورٹ کے قیام کو بھی سراہا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبوں میں ماڈل سول ٹرائل کورٹس قائم کی گئی ہیں جنہوں نے پرانے مقدمات کے جلد فیصلے یقینی بنائے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کی ماڈل کورٹس نے صرف 45 دن میں 12,278 مقدمات نمٹائے جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کی ماڈل کورٹس نے 586 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ سندھ ہائی کورٹ کو معذور افراد کے لیے 18 اضلاع میں سہولیات فراہم کرنے پر سراہا گیا۔کمیٹی نے ضلعی عدلیہ میں کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سفارشات پر غور کیا جن میں ججز کے لیے یکساں بھرتی کے اصول، تربیتی پروگرامز، کارکردگی کے معیارات (KPIs) اور مشترکہ تربیتی ڈھانچہ شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے ہر ہائی کورٹ میں آزاد "جوڈیشل ریکروٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ” کے قیام کی تجویز بھی دی۔کمیٹی نے قومی جیل اصلاحاتی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

لاہور، سندھ اور پشاور ہائی کورٹس نے منصوبے کی توثیق کر دی ہےجبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد ماڈل جیل منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیا۔ایل جے سی پی کے سیکرٹری نے بتایا کہ نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی نے عدلیہ میں جنریٹیو اے آئی کے اخلاقی استعمال کے لیے رہنما اصولوں کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ کمیٹی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت دی۔کمیٹی نے عدالتی اصلاحات سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے ایک جامع ابلاغی حکمت عملی (Communication Strategy) تیار کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے لیے لاہور، سندھ ہائی کورٹس اور ایل جے سی پی سیکرٹری پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔

وزارتِ آئی ٹی کے سیکرٹری نے عدالتوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے تفصیلی منصوبہ پیش کیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ عدالتوں کے لیے موجود کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر کا مکمل جائزہ لے کر آئندہ مرحلے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرائے جائیں۔اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس آف پاکستان نے تمام ہائی کورٹس، وزارتِ قانون و انصاف، اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن سیکرٹریٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے عدالتی نظام میں بہتری، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔