افغانستان میں خوراک کے عدم تحفظ ،غذائی قلت سے ایک پوری نسل کے مستقبل کو خطرہ ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔16مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ریذیڈینٹ اینڈ ہیومینیٹیریئن کوآرڈینیٹر و نائب خصوصی نمائندہ رمیز الاکبروف نے کہا ہے کہ افغانستان میں لوگ خوراک کے عدم تحفط اور غذائیت کی قلت کے بحران کے بڑے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کابل میں جاری ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں شدید بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر مارچ میں2 کروڑ 30لاکھ(23ملین)تک پہنچ گئی ہے …

اقوام متحدہ۔16مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ریذیڈینٹ اینڈ ہیومینیٹیریئن کوآرڈینیٹر و نائب خصوصی نمائندہ رمیز الاکبروف نے کہا ہے کہ افغانستان میں لوگ خوراک کے عدم تحفط اور غذائیت کی قلت کے بحران کے بڑے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کابل میں جاری ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں شدید بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر مارچ میں2 کروڑ 30لاکھ(23ملین)تک پہنچ گئی ہے ۔افغان شہری خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مایوس کن اقدامات” کا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تجارت بند ہونے سے بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں، دستیاب خوراک کے معیار، مقدار اور تنوع کم ہونے سے خواتین، مردوں اور بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر دیگر نقصان دہ اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

رمیز الاکبروف افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کے نائب سربراہ بھی ہیں، نے کہا ہے کہ 95فیصد افغان شہریوں کے پاس خاطر خواہ کھانے کو نہیں ہے اور خواتین سربراہ والے گھرانوں میں یہ تعدادتقریباً 100فیصد تک پہنچ رہی ہے، یہ تعداد انتہائی زیادہ ہے جو تباہ کن ہے اور ایک تلخ حقیقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کے باعث ہسپتال بچوں سے بھرے پڑے ہیں جن میں اکثر بچوں کا وزن انتہائی کم ہے اور بعض بچے انتہائی کمزور ہیں اور نقل و حرکت کرنے سے قاصر ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جہاں اس وقت شدید خشک سالی کے اثرات کا سامنا ہے وہیں اس ملک میں رواں سال فصل کی پیداوار میں کمی کا امکان ہے جبکہ بینکنگ اور مالیاتی اداروں کے بحران میں اس قدر شدت آچکی ہے کہ 80فیصد آبادی کو قرضوں ،خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے مسائل کا سامنا ہےاور ہم اس صورتحال کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے ،اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار بھوک اور غذائیت کی کمی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں لوگوں کے تحفظ اور مستقبل میں ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں رواں سال میں اب تک 82لاکھ( 8.2ملین) افراد کو ہنگامی راشن، سکول میں بچوں کو کھانے پینے کی اشیا زرعی سامان اور غذائیت سے بھرپور خوراک اور دودھ پلانے والی ماؤں اور ان کے بچوں کے لیے سپلیمنٹس اورکھانے پینے کی اشیا فراہم کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اس طرح کی امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے 28صوبوں میں غذائیت کی شدید کمی کی شرح زیادہ ہے جہاں 35لاکھ بچوں کو غذائی امداد کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے عدم تحفظ اور غذائی قلت سے افغانستان کی ایک پوری نسل کے مستقبل کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں آج اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کافی نہیں ہے اس کے لیے ضرروی ہے کہ اس ملک کے عوام زندہ رہیں، صحت مند ہوں،انتہائی نازک حالات میں کمزور افراد کو مزید مشکل حالات میں پھنسنے سے بچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم افغان عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ افغانستان میں جب تک بھوک اور غذائی قلت کا خاتمہ نہیں ہو گا اس کے بہتر مستقبل کے اقدامات کی کوششیں ناممکن ہوں گی۔