افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے زیرِ اثر آزادی صحافت شدید متاثر،افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن کی صحافیوں پر تشدد اور سنسرشپ کی مذمت

کابل۔1اکتوبر (اے پی پی):افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے آزادی صحافت اور میڈیا کی خودمختاری پر سنگین قدغنیں عائد کیے جانے کے بعد افغان میڈیا عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن (اے ایم ایس او) نے جاری بیان میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد، غیر قانونی گرفتاریوں اور ظالمانہ سنسرشپ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں …

کابل۔1اکتوبر (اے پی پی):افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے آزادی صحافت اور میڈیا کی خودمختاری پر سنگین قدغنیں عائد کیے جانے کے بعد افغان میڈیا عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن (اے ایم ایس او) نے جاری بیان میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد، غیر قانونی گرفتاریوں اور ظالمانہ سنسرشپ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں معلومات تک رسائی پر عائد تمام غیر قانونی پابندیاں فوری ختم کی جائیں اور میڈیا ورکرز کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

تنظیم کے مطابق طالبان حکومت منظم طریقے سے آزاد صحافیوں کو ہراساں کر رہی ہے اور آزادانہ رپورٹنگ کے ذرائع مسدود کیے جا رہے ہیں۔

میڈیا ہائوسز اور نامہ نگاروں کو سختی سے پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ صرف اور صرف طالبان رجیم کے یکطرفہ بیانیے اور بااثر حکومتی حلقوں کی پسندیدہ معلومات کو ہی نشر کریں۔افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے واضح کیا کہ ٹی وی چینلز پر لائیو تصاویر کی ترسیل، سیاسی ٹاک شوز اور آزاد مباحثوں پر عائد ظالمانہ سنسرشپ اور مسلسل ملنے والی سنگین دھمکیوں کے باعث صحافتی ادارے سانس لینے کی سکت کھو چکے ہیں جس سے خطے میں بنیادی انسانی حقوق اور آزاد معلومات کی فراہمی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

مزید خبریں