اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ چھاتی کی صحت کو سنجیدگی سے لیں اور جسم میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں، چھاتی کا سرطان قابل علاج مرض ہے جبکہ بروقت تشخیص اور فوری علاج سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ صدارتی سیکرٹریٹ کےمیڈیا ونگ کے مطابق جمعرات …
خواتین چھاتی کے سرطان سے بچاؤ کے لئے بروقت تشخیص کو ترجیح دیں، خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ چھاتی کی صحت کو سنجیدگی سے لیں اور جسم میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں، چھاتی کا سرطان قابل علاج مرض ہے جبکہ بروقت تشخیص اور فوری علاج سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
صدارتی سیکرٹریٹ کےمیڈیا ونگ کے مطابق جمعرات کو چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے مہینے کے آغاز پر اپنے پیغام میں خاتونِ اول نے کہا کہ ماہ رواں خواتین کو یہ یاد دلانے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ اپنی صحت کا خیال رکھنے کا مطلب اپنے جسم سے آگاہ رہنا اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں بروقت اقدام کرنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ باقاعدگی سے خود معائنہ کرنے سے خواتین اپنے جسم میں معمول کی تبدیلیوں سے آگاہ رہ سکتی ہیں اور یہ جان سکتی ہیں کہ کب انہیں طبی مشورہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 50 سال سے زائد عمر کی خواتین کوسکریننگ خدمات کی حامل سہولیات پر باقاعدگی سے میموگرام پر غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جو خواتین باقاعدگی سے میموگرافی سکریننگ نہیں کراتیں ان میں چھاتی کے سرطان کے 90 فیصد سے زائد کیسز کا خود تشخیص کے ذریعے پتہ چلتا ہے اس لیے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی انتہائی اہم ہے۔خاتونِ اول نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بہت سی خواتین خصوصاً دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، اب بھی بہت تاخیر سے ڈاکٹر سے رجوع کرتی ہیں۔
اس کی بعض اوقات وجہ آگاہی کا فقدان، بعض اوقات طبی سہولیات کا دور دراز ہونا اور بعض اوقات تشخیص اور علاج کے اخراجات کا ناقابل برداشت محسوس ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی خاتون کو محض اس لیے زندہ رہنے کا موقع نہیں کھونا چاہیے کہ وہ غریب ہے، کسی بڑے شہر سے دور رہتی ہے یا طبی مدد حاصل کرنے سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کو مزید اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ہر خاتون کو صحت سے متعلق آگاہی، اسکریننگ اور درکار طبی نگہداشت تک رسائی حاصل ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے بریسٹ کینسر کی اسکریننگ اور علاج کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سرکاری ہسپتالوں اور کینسر ٹریٹمنٹ یونٹس میں مفت میموگرافی اور تشخیصی سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے۔ یہ سہولیات جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول ہسپتال کراچی میں دستیاب ہیں۔خاتونِ اول نے تمام عمر کی خواتین پر زور دیا کہ وہ بریسٹ سیلف ایگزامینیشن (خود معائنہ) کو اپنی معمول کی صحت کی نگہداشت کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے چھاتی کے سرطان کی ابتدائی علامات کو پہچاننے اور بغیر کسی تاخیر کے طبی امداد حاصل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا








