اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے 126 صفحات پر مشتمل قواعد و ضوابط (رولز)پبلک کر دیے ہیں جن کے تحت عدالت توہینِ عدالت کا ازخود نوٹس لے سکے گی جبکہ کسی بھی شخص کی درخواست پر بھی توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جا سکے گی۔ رولز کے مطابق بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ کم …
وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز جاری، توہینِ عدالت ازخود نوٹس اور نظرثانی درخواستوں سے متعلق اہم قواعد وضع

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے 126 صفحات پر مشتمل قواعد و ضوابط (رولز)پبلک کر دیے ہیں جن کے تحت عدالت توہینِ عدالت کا ازخود نوٹس لے سکے گی جبکہ کسی بھی شخص کی درخواست پر بھی توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جا سکے گی۔
رولز کے مطابق بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جا سکیں گے۔رولز کے مطابق فریق کی جانب سے بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کیے جانے پر بھی کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد ہوں گے جبکہ نظرثانی درخواست کی سماعت سے قبل درخواست گزار کو 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوگا، درخواست خارج یا بے بنیاد قرار دیے جانے کی صورت میں 50 ہزار روپے زرِ ضمانت ضبط کیا جا سکے گا۔وفاقی آئینی عدالت کے رولز میں قرار دیا گیا ہے کہ نظرثانی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے مقرر ہوگی جس نے اصل فیصلہ یا حکم جاری کیا تھا۔
اصل بینچ کا کوئی جج دستیاب نہ ہونے کی صورت میں جہاں ممکن ہو اسی بینچ کے ایک یا زائد ججز پر مشتمل بینچ نظرثانی درخواست کی سماعت کرے گا۔ نظرثانی کے حکم کے خلاف مزید نظرثانی درخواست دائر نہیں کی جا سکے گی اور ایسی درخواست رجسٹری میں بھی قبول نہیں کی جائے گی۔رولز کے مطابق سزائے موت سے متعلق نظرثانی درخواست دائر ہونے پر رجسٹرار متعلقہ حکومت کو فوری آگاہ کرے گا۔ نظرثانی درخواست کے فیصلے تک سزائے موت پر عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہے گا اور اس مقصد کے لیے عدالت کے الگ حکم کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم اپیل، نظرثانی اور رحم کی درخواست سمیت تمام قانونی چارہ جوئی مکمل ہونے کی صورت میں خودکار معطلی کا اصول لاگو نہیں ہوگا۔
وفاقی آئینی عدالت آئین کی تشریح سے متعلق اہم سوال موجود ہونے پر کسی عدالت میں زیر سماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکے گی۔ متعلقہ عدالت ریکارڈ فوری یا وفاقی آئینی عدالت کی مقررہ مدت میں بھجوائے گی جس کے بعد رجسٹرار ریکارڈ مناسب احکامات کے لیے عدالت کے سامنے پیش کرے گا۔ فریقین کو سننے کے بعد عدالت انصاف کے تقاضوں کے مطابق مناسب حکم جاری کر سکے گی اور ضرورت پڑنے پر مصدقہ نقل یا مزید ہدایات کے ساتھ ریکارڈ متعلقہ عدالت کو واپس بھجوا سکے گی۔رِٹ آف ہیبیس کارپس سے متعلق رولز کے تحت درخواست رجسٹری یا برانچ رجسٹری میں دائر ہوگی اور حراست میں لیے گئے شخص کا حلف نامہ درخواست کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔ درخواست میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ اسی ریلیف کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے یا نہیں۔
اگر حراست کے باعث زیر حراست شخص حلف نامہ دینے سے قاصر ہو تو حقائق سے واقف دوسرے شخص کا حلف نامہ جمع کرایا جا سکے گا جس میں حلف نامہ نہ دینے کی وجوہات بھی بیان کرنا ہوں گی۔رولز کے مطابق آئین کے آرٹیکل 175E کی شق 3 کے تحت ہیبیس کارپس درخواست سات دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی اور ایسی درخواست یا مذکورہ شق کے تحت فوجداری کارروائی پر کوئی عدالتی فیس عائد نہیں ہوگی۔ بادی النظر میں ریلیف کا مقدمہ بنتا ہو تو عدالت ابتدائی حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ شخص کو طلب کر کے مطلوبہ ریلیف نہ دینے کی وجہ بتانے کا حکم دے سکے گی اور غیر قانونی یا نامناسب حراست میں موجود شخص کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی کر سکے گی۔
رولز میں فوجداری مقدمات میں اپیل کی اجازت کی درخواست فیصلے یا حتمی حکم کی تاریخ سے 60 دن کے اندر دائر کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے مقدمات میں اگر سٹیٹ بینک فریق نہ ہو تو اسے بھی نوٹس جاری کیا جائے گا۔وفاقی آئینی عدالت کے رولز میں التوا کے حوالے سے بھی واضح قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ مقررہ وکیل پیش نہ ہو سکے تو ایڈووکیٹ آن ریکارڈ عدالت کی معاونت اور کارروائی آگے بڑھانے کا پابند ہوگا۔ التوا کو استثنائی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی فریق کو التوا کا حق حاصل نہیں ہوگا، مبہم، رسمی، غیر ضروری یا کارروائی میں تاخیر کی غرض سے دائر درخواست مسترد کی جا سکے گی۔
رولز کے مطابق مناسب وجہ کے بغیر یا محض سہولت اور تاخیر کے لیے التوا طلب کیا جائے تو عدالت کارروائی جاری رکھ سکے گی جبکہ حقیقی ہنگامی یا ناقابل اجتناب حالات میں التوا منظور کیا جا سکے گا۔ قانون اجازت دے تو عدم پیروی کی بنیاد پر مقدمہ خارج کیا جا سکے گا اور قصوروار فریق، وکیل یا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تلافیاتی اخراجات عائد کیے جا سکیں گے۔ بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے عدالتی اخراجات جمع کرانے کا حکم بھی دیا جا سکے گا جو ضبط یا مخالف فریق کو ادا کیے جا سکیں گے۔رولز کے تحت رجسٹرار قواعد کے خلاف یا توہین آمیز الفاظ پر مشتمل درخواست وصول کرنے سے انکار کر سکتا ہے، رجسٹرار کے انکار کے خلاف 14 دن کے اندر جج ان چیمبرز کے سامنے اپیل دائر کی جا سکے گی۔
آئین کے آرٹیکل 63A سے متعلق رولز کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔ ایسی اپیل الیکشن کمیشن کے فیصلے کی تاریخ سے 30 دن کے اندر دائر کرنا ہوگی اور ہر اپیل کا فیصلہ دائر ہونے کے 90 دن کے اندر کیا جائے گا۔ رولز کے مطابق اس شق سے متعلق احکامات متعلقہ آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد کیے گئے فیصلوں پر لاگو ہوں گے اور ان اپیلوں کا اطلاق ترمیم کے نفاذ کے بعد ہونے والے عام انتخابات سے ہوگا۔وفاقی آئینی عدالت میں وکلا کے دلائل کے وقت سے متعلق رولز میں قرار دیا گیا ہے کہ ہر مقدمے، درخواست یا اپیل میں ہر فریق کو زبانی دلائل کے لیے 10 منٹ دیے جائیں گے جبکہ قانون کے اہم سوال پر مشتمل مقدمے میں ہر فریق کو عموماً 30 منٹ کا وقت حاصل ہوگا۔ عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر مقررہ وقت سے زیادہ دلائل نہیں دیے جا سکیں گے۔رولز کے مطابق مختصر تحریری دلائل سماعت سے کم از کم دو دن قبل سافٹ یاسکین شدہ کاپی کے ساتھ جمع کرانا ہوں گے، عدالت مقررہ وقت کی سختی سے پابندی یقینی بنائے گی اور مقدمات جلد نمٹانے کے لیے ضروری احکامات جاری کر سکے گی۔
وفاقی آئینی عدالت میں ہر مقدمہ، معاملہ یا اپیل کم از کم دو ججز پر مشتمل بینچ سنے گا۔ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے سے پیدا ہونے والی اپیل بھی کم از کم دو ججز پر مشتمل بینچ سنے گا، بینچ میں ججز کی رائے برابر تقسیم ہونے کی صورت میں معاملہ دوسرے جج یا چیف جسٹس کے نامزد کردہ بڑے بینچ کو بھیجا جا سکے گا۔رولز کے مطابق چیف جسٹس مقدمے کی اہمیت، پیچیدگی یا عوامی اہمیت کے پیش نظر کسی بھی مرحلے پر بڑا بینچ تشکیل دے سکتے ہیں جبکہ بڑے بینچ میں ججز کی تعداد چیف جسٹس حکم کے ذریعے مقرر کریں گے۔وکلا سے متعلق قواعد کے تحت سینئر ایڈووکیٹس، ایڈووکیٹس اور ایڈووکیٹس آن ریکارڈ کے الگ الگ رول برقرار رکھے جائیں گے۔
پاکستان بار کونسل کا انرولمنٹ سرٹیفکیٹ پیش کیے بغیر کسی وکیل کو رول پر دستخط کی اجازت نہیں ہوگی۔ پیشہ ورانہ بدعنوانی یا بدسلوکی کی صورت میں چیف جسٹس اور ججز وکیل کا نام رول سے خارج کر سکیں گے۔رولز کے مطابق ایڈووکیٹ کے طور پر انرولمنٹ کے لیے کم از کم سات سال ہائی کورٹ کا ایڈووکیٹ رہنا لازم ہوگا۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کو وکیل کی عدالت میں پیش ہونے اور دلائل دینے کی موزونیت کی تصدیق کرنا ہوگی، چیف جسٹس اور ججز علم، قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر وکلا کو سینئر ایڈووکیٹ نامزد کر سکیں گے۔ سینئر ایڈووکیٹ کو دیگر وکلا پر ترجیح حاصل ہوگی اور ان کے لیے انرولمنٹ فیس ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے رولز کے مطابق تمام مقدمات، درخواستیں، اپیلیں اور نظرثانی درخواستیں مختلف زمروں اور ذیلی زمروں میں تقسیم ہوں گی۔ رجسٹرار چیف جسٹس کی منظوری سے مقدمات کی فائلنگ، جانچ، رجسٹریشن، فہرست سازی، تقسیم اور شماریاتی انتظام کا جامع شیڈول مرتب اور شائع کرے گا۔







