اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):ممتاز مزاح نگار، افسانہ نگار، ادیب ، مترجم،معلم اور سفارتکار پطرس بخاری کی 128 ویں سالگرہ منائی گئی۔ پطرس بخاری یکم اکتوبر 1898 کو پشاور میں پیدا ہوئے ، ان کا اصل نام پیر سید احمد شاہ بخاری ہے اور انہیں اردو ادب کی دنیا میں پطرس بخاری کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پشاورمیں حاصل کی اوراس کے بعد گورنمٹ …
مزاح نگار، افسانہ نگار و ادیب پطرس بخاری کی128 ویں سالگرہ منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):ممتاز مزاح نگار، افسانہ نگار، ادیب ، مترجم،معلم اور سفارتکار پطرس بخاری کی 128 ویں سالگرہ منائی گئی۔ پطرس بخاری یکم اکتوبر 1898 کو پشاور میں پیدا ہوئے ، ان کا اصل نام پیر سید احمد شاہ بخاری ہے اور انہیں اردو ادب کی دنیا میں پطرس بخاری کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم پشاورمیں حاصل کی اوراس کے بعد گورنمٹ کالج لاہور سے اعزازی نمبروں کے ساتھ ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے میں انہیں شاعری اور ادب سے گہری دلچسپی تھی اور گورنمنٹ کالج لاہور کے میگزین’’راوی‘‘کے ایڈیٹر بھی رہے۔ ایم اے کرنے کے بعد وہ برطانیہ چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کی۔
وطن واپس آنے کے بعد سینٹرل ٹریننگ کالج اورپھر گورنمنٹ کالج میں انگریزی ادب کے پروفیسر رہے۔1937 ميں آل انڈيا ريڈيو کے قيام کے بعد سات سال تک بطورڈائريکٹر ریڈیو سے منسلک رہے اور بعد میں ڈپٹی کنٹرولر جبکہ 1940 میں پطرس بخاری کو کنٹرولر جنرل مقرر کیا گیا ۔ پطرس بخاری قیام پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہو گئے اور پھر اپنے پرانے شعبے کی طرف رجوع کیا اور گورنمنٹ کالج کے پرنسپل مقرر کئے گئے ۔
پطرس بخاری کا شمار پاکستان کے مقبول ترین مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے انگریزی ادب کے اردو تراجم میں بڑا نام پیدا کیا اوران کی تصانیف آج بھی تازہ پھول کی مانند علم و فن کے پھول بکھیر رہی ہیں۔ پطرس بخاری نے کئی سال تک اقوام متحدہ میں پاکستان کامستقل نمائندے کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیئے۔ اپنی ذہانت، معاملہ فہمی اور تدبر کی وجہ سے 1955 میں اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات کے ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے۔
اقوام متحدہ میں خدمات کی انجام دہی کے دوران 5 دسمبر 1958 کو نیویارک میں حرکت قلب بند ہونے کی باعث انتقال کر گئے۔ پطرس بخای کا شمار ایسے ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم لکھا لیکن جو بھی لکھا اس کی بدولت ادب کی دنیا میں خاص مقام بنایا ۔مضامين پطرس کے نام سے انہوں نے صرف ايک کتاب ہی لکھی جسے بلاشبہ اردو ادب ميں اہم درجہ حاصل ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے 11 مضامین میں معاشرے کی کسی نہ کسی خامی پر مزاحیہ اور ہمدردانہ انداز میں روشنی ڈالی۔
پطرس بخاری اردو زبان کے بلند پایہ تخلیق کارہیں اور ان کی تحریروں کی خصوصیت نفاست ہے۔ پطرس بخاری کی ادبی، علمی اور سفارتی خدمات کے صلے میں انہیں ہلال امتیاز اور کمپینین آف دی آرڈر آف دی انڈین ایمپائر سمیت مختلف قومی و بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ پطرس بخاری کی سالگرہ کی مناسبت سے علمی، ادبی اور سفاری حلقوں کی جانب سے بھر پور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔







