طالبان نے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے اندازاً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر پر مرکزی کنٹرول قائم کر لیا ہے اور کان کنی کے شعبے کو طویل مدتی قومی ترقی کی بنیاد کے بجائے آمدنی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے
افغانستان کا ایک ٹریلین ڈالر کا معدنی شعبہ غیر شفافیت کا شکار، طالبان کا باغیانہ طرزِ حکمرانی برقرار، امریکی تھنک ٹینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اگست (اے پی پی):طالبان نے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے اندازاً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر پر مرکزی کنٹرول قائم کر لیا ہے اور کان کنی کے شعبے کو طویل مدتی قومی ترقی کی بنیاد کے بجائے آمدنی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔امریکہ میں قائم تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق طالبان کے زیر انتظام افغانستان کی معدنی صنعت میں شدید غیر شفافیت پائی جاتی ہے اور اس کا طریقہ کار طالبان کے سابقہ جنگی دور میں مالی وسائل جمع کرنے کے طریقوں سے مماثلت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق معدنی آمدنی کو شفاف انداز میں سرکاری کھاتوں میں جمع کرنے کے بجائے بااثر اشرافیہ کے نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون کے آخر میں طالبان قیادت نے تقریباً ایک ہزار خصوصی فورسز کے اہلکار صوبہ بدخشاں بھیجے تاکہ مقامی کان کنی کے مقامات پر اختیار مستحکم کیا جا سکے اور انہیں براہ راست مرکزی کمان کے ماتحت لایا جا سکے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے اندازوں کے مطابق افغانستان کے 34 صوبوں میں 1,400 سے زائد معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں تانبہ، لیتھیم، زنک، سیسہ، اینٹی منی، کوبالٹ اور نایاب ارضی عناصر شامل ہیں۔ ان وسیع ذخائر نے چین، بھارت، پاکستان اور امریکہ سمیت علاقائی و عالمی طاقتوں کی نمایاں توجہ حاصل کی ہے۔اب تک طالبان نے 150 سے زائد کمپنیوں کو کم از کم 205 کان کنی کے معاہدے دیے ہیں جبکہ ستمبر 2023 میں 6.5 ارب ڈالر کے معاہدوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ مئی 2024 میں طالبان کے زیر کنٹرول وزارتِ کان کنی و پٹرولیم نے دعویٰ کیا کہ چین، قطر، ترکیہ، ایران اور برطانیہ سے 7 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی گئی، تاہم ان معاہدوں کی شرائط تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔کان کنی کے شعبے کی شفافیت کو جون 2024 میں مزید دھچکا لگا جب افغانستان کو ایکسٹریکٹو انڈسٹریز ٹرانسپیرنسی انیشی ایٹو سے معطل کر دیا گیا۔ جولائی 2024 میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل طالبان شخصیت ہدایت اللہ بدری کو وزیرِ کان کنی و پٹرولیم مقرر کیے جانے کے بعد شفافیت مزید متاثر ہوئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے پہلے سات ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والی کان کنی کی 95 فیصد سے زائد آمدنی ظاہر کی گئی، تاہم اگلے پانچ ماہ کے دوران عوامی طور پر صرف تقریباً 10 لاکھ ڈالر کی آمدنی کا حساب پیش کیا گیا۔مبصرین کے مطابق کان کنی کے شعبے میں ایک اندرونی معدنی مافیا بھی سرگرم ہے، جو کان کنوں، تاجروں اور برآمد کنندگان سے رائلٹیز، فیس اور براہ راست ادائیگیاں وصول کرتی ہے۔ موجودہ طالبان حکومت کے دور میں صوبہ ننگرہار، جو ٹالک، کرومائٹ اور نیفرائٹ کے ذخائر سے مالا مال ہے، کو کان کنی کے سب سے زیادہ معاہدے دیے گئے ہیں۔تحقیق میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ قلیل مدتی اور جارحانہ انداز میں معدنی وسائل کے اخراج کے نتیجے میں سنگین سماجی اور ماحولیاتی نقصانات سامنے آ رہے ہیں۔ شمالی افغانستان کی کوئلے کی کانوں میں آٹھ سال تک کی عمر کے بچوں کے حفاظتی سامان اور جدید مشینری کے بغیر کام کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ تخار اور بدخشاں جیسے صوبوں میں مقامی آبادی کو جبری بے دخلی، قدرتی وسائل کی کمی، پانی کے بے تحاشا استعمال اور معدنی ذخائر کے تنازعات کے باعث جان لیوا جھڑپوں کا سامنا ہے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق افغانستان میں کان کنی کا شعبہ عوامی فلاح و بہبود کے بجائے سیاسی کنٹرول، سرپرستی کے نظام کو مضبوط بنانے اور اندرونی طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔







