پاکستان کے لائیو سٹاک (مویشی بانی) کے شعبے نے مالی سال 2025-26 کے دوران 3.75 فیصد نمو حاصل کی جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اقتصادی سروے پاکستان 2025-26: لائیو سٹاک شعبے میں 3.75 فیصد نمو ریکارڈ

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):پاکستان کے لائیو سٹاک (مویشی بانی) کے شعبے نے مالی سال 2025-26 کے دوران 3.75 فیصد نمو حاصل کی جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔جمعرات کو جاری کیے گئے اقتصادی سروے پاکستان 2025-26 کے مطابق لائیو سٹاک شعبہ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اس شعبے کی مجموعی قدرِ افزائش (Gross Value Addition) مالی سال 2025 میں 6,004 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 6,229 ارب روپے تک پہنچ گئی جو 3.75 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں مویشیوں کی تعداد کا تخمینہ 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار، بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ جبکہ بھیڑوں کی تعداد 3 کروڑ 35 لاکھ لگائی گئی۔
اسی طرح بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ اور اونٹوں کی تعداد تقریباً 12 لاکھ رہی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولٹری کا شعبہ پاکستان کی لائیو سٹاک صنعت کا ایک متحرک اور اہم حصہ ہے جو ملک بھر میں 15 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں پولٹری شعبے کی مجموعی قدرِ افزائش 999 ارب روپے رہی جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس شعبے نے اوسطاً 8.1 فیصد سالانہ شرح نمو حاصل کی۔اقتصادی سروے کے مطابق پولٹری صنعت کی تیز رفتار ترقی نے پاکستان کو دنیا کا گیارہواں بڑا پولٹری پیدا کرنے والا ملک بنا دیا ہے، جو اس شعبے میں مزید توسیع اور جدت کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ملکی گوشت کی مجموعی پیداوار میں پولٹری کا حصہ تقریباً 43.3 فیصد ہے، جس سے خوراک کی فراہمی میں اس شعبے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
دوسری جانب مچھلی اور آبی حیات سے متعلق مصنوعات کی برآمدات میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی منڈیوں میں سمندری خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔ پاکستان سے مچھلی اور ماہی گیری کی مصنوعات خریدنے والے اہم ممالک میں چین، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور جاپان شامل ہیں۔مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مارچ عرصے کے دوران پاکستان نے 2 لاکھ میٹرک ٹن مچھلی اور ماہی گیری کی مصنوعات برآمد کیں، جن سے تقریباً 40 کروڑ 51 لاکھ امریکی ڈالر کا زرِ مبادلہ حاصل ہوا۔ یہ اعداد و شمار اس شعبے کی برآمدی صلاحیت اور قومی معیشت میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہیں۔








