اقتصادی سرگرمیوں، سیاحت، برآمدی صنعتوں ،کاروباری تعاون اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے فضائی روابط اہمیت کے حامل ہیں، مہر کاشف یونس

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں، سیاحت، برآمدی صنعتوں ، کاروباری تعاون کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان فضائی روابط انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جمعرات کو شاہد نذیر کی قیادت میں صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضائی …

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں، سیاحت، برآمدی صنعتوں ، کاروباری تعاون کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان فضائی روابط انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

جمعرات کو شاہد نذیر کی قیادت میں صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضائی رابطے سرحد پار سامان اور خدمات کی موثر نقل و حرکت کو یقینی بناتے ہیں۔ فضائی رابطے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نظر میں ایک اہم عنصر ہے کیونکہ سرمایہ کاری کے مقامات کا انتخاب کرتے وقت وہ ترقی یافتہ ہوائی نقل و حمل اور پروازوں کے نیٹ ورک کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں تاکہ ممکنہ سرمایہ کاری کے مقامات کے دوروں، کاروباری مذاکرات اور سرمایہ کاری کی نگرانی کرنا آسان رہے۔

اس لیے اچھے فضائی رابطے والے ممالک کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں آسانی ہوتی ہے جبکہ اس سے اقتصادی ترقی اور ملازمتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی نقل و حمل برآمدی صنعتوں کو مسابقتی فائدہ فراہم کرتی ہے کیونکہ مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان حساس اشیا مثلاً خراب ہونے والی اشیا اور زیادہ قیمتی مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے فضائی کارگو پر انحصار کرتے ہیں۔

مہر کاشف یونس نے کہا کہ فضائی کنیکٹوٹی کاروباری تعاون، معلومات کے اشتراک اور جدت طرازی کیلئے بھی فائدہ مند ہے۔ اس سے مختلف ممالک کے درمیان آئیڈیاز، مہارتوں اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں سہولت فراہم ہوتی ہے جن سے نئی صنعتوں کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کی مجموعی ترقی میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کی صنعت کی ترقی کے لیے بھی فضائی رابطے بہت ضروری ہے کیونکہ سیاح اپنی منزل مقصود تک جلد اور آسانی سے پہنچنے کے لیے ہوائی سفر پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔