اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف نے بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں ، عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا

سرینگر ۔ 30 اپریل (اے پی پی) اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف نے بھارتی فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور انتہائی ظالمانہ، غیر انسانی اور توہیں آمیز سلوک قرار دیا ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ آئی سی …

سرینگر ۔ 30 اپریل (اے پی پی) اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف نے بھارتی فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور انتہائی ظالمانہ، غیر انسانی اور توہیں آمیز سلوک قرار دیا ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے روم سٹیچوٹ پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے اس پر انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے جنوبی علاقوں میں عام شہریوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے انہیں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ اور انٹر نیشنل کریمنل کورٹ ( آئی سی سی ) دونوں کے مطابق یہ عمل بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ساری حقیقت کے باوجود بھارتی قوانین کے مطابق بھارتی فوجیوں کے اقدامات کو جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن بھارت کا موقف ہے کہ بین الاقوامی تنازعات پر لاگو جنیوا کنونشن کا اطلاق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر نہیں ہوتا کیونکہ بھارت اب چند ممالک میں شامل ہے جو روم سٹیچوٹ کے فریق نہیں ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے جنوبی گاﺅں پنگلان کے مکینوں نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے ان کے گاﺅں میں گذشتہ فروری میں گھر گھر تلاشی کی کارروائی کے دوران انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جس کی جنیوا کنونشن میں واضح طور پر ممانعت کی گئی ہے جبکہ آئی سی سی کے روم سٹیچوٹ میں اس عمل کو جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بھارت میں سربراہ آکار پٹیل نے ان الزامات کو نہایت سنگین قرار دیا ہے۔بھارتی فوجی کارروائیوں سے متعلقہ قوانین کے ماہرین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں کئی غیر قانونی اختیارات کا بغیر کسی خوف کے استعمال کر رہی ہے۔یہ ماہرین آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ جیسے قوانین کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

مزید خبریں

Leave a Reply