اقوام متحدہ میں پاکستان کا امریکا کی کیوبا پر اقتصادی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ ۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے امریکا کی کیوبا پر عائد اقتصادی پابندی ختم کرنے کی دوبارہ اپیل دہرائی ہے، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1992 سے ہر سال اٹھایا ہے، جبکہ کیریبین خطہ طوفان "میلیسا" کی آمد کے باعث شدید خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے 193 رکن ممالک پر مشتمل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے …

اقوام متحدہ ۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے امریکا کی کیوبا پر عائد اقتصادی پابندی ختم کرنے کی دوبارہ اپیل دہرائی ہے، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1992 سے ہر سال اٹھایا ہے، جبکہ کیریبین خطہ طوفان "میلیسا” کی آمد کے باعث شدید خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے 193 رکن ممالک پر مشتمل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بشمول داخلی قوانین کا غیر ملکی اطلاق بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیوبا کے ساتھ یکجہتی رکھتا ہےاور اس کے حقِ خودمختارانہ ترقی کے راستے پر چلنے اور ضروری اشیاء جیسے خوراک، ادویات اور ٹیکنالوجی تک بغیر رکاوٹ رسائی کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی، مالیاتی اور تجارتی پابندی کا کیوبا اور اس کے عوام پر اثر انتہائی تشویشناک ہے۔” پاکستان کے مطابق، بین الاقوامی تعاون کا دارومدار ریاستوں کی خودمختاری، باہمی احترام اور داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے کے اصولوں پر ہونا چاہیے۔سفیر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پابندی نے کیوبا کی ترقی کی راہ میں سنگین رکاوٹیں ڈال دی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پابندی نے ملک کی تجارت، بیرونی سرمایہ کاری، مالی و بینکنگ لین دین اور ضروری اشیاء کی درآمد کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے، جس سے معیشت کے معمول کے کام متاثر ہوئے، نمو رک گئی اور انسانی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے 2030 کے ترقیاتی ایجنڈے کے اصولوں کے منافی ہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ ایک مختلف اور منصفانہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ اسمبلی میں موجود قرارداد کے حق میں ووٹ دے گا، جس میں امریکا کی کیوبا پر پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سفیر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پابندی ختم کرنا کیوبائی عوام کے حقِ ترقی اور خوشحالی کو حاصل کرنے کے لیے ضروری قدم ہے۔