اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر سے ملاقات کے بعد ”اے پی پی” سے بات چیت

اقوام متحدہ ۔ 20 فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے خطہ کی صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیاہے کہ عشروں پرانے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کےلئے کوششیں تیز کی جائیں۔ بھارت کے ظلم وبربریت کے باعث کشمیریوں کی مقامی جدوجہد آزادی کو تقویت ملی، گزشتہ ہفتہ پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی میں …

اقوام متحدہ ۔ 20 فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے خطہ کی صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیاہے کہ عشروں پرانے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کےلئے کوششیں تیز کی جائیں۔ بھارت کے ظلم وبربریت کے باعث کشمیریوں کی مقامی جدوجہد آزادی کو تقویت ملی، گزشتہ ہفتہ پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی میں اضافہ کے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرز اور سلامتی کونسل کے صدر اناتولیونودونگ مبا کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے بعد ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ میں نے انہیں بتایا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں تشدد کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق دیرینہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضروت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر سمیت دیگر تمام مسائل کے حل کے لئے بھارت کے ساتھ بامقصد اور تعمیری مذاکرات کے لئے پاکستان کی آمادگی کا اظہار کیا جس کا ذکر وزیراعظم عمران خان نے بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا مذاکرات سے انکار کا رویہ نہ صرف غیر ذمہ درانہ ہے بلکہ اس سے پورے جنوبی ایشیاء کے خطہ کے امن اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوںنے پلوامہ واقعہ پر بھارت کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزامات لگائے۔ پاکستان کی سفیر نے کہا کہ عالمی برادری کو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر نا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کے بنیادی حقوق سے مسلسل انکار اور ان پر بھارت کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2018ءکی رپورٹ میں بھارتی مظالم واضح طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 500 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیاجو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں سب سے زیادہ شہادتوں کا سال ہے۔ انہوں نے بھارتی رہنماﺅں کے اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور ضبط وتحمل جاری رکھے گا تاہم ہمارے صبر کو نہ آزمایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی کسی بھی مذموم مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان کی مشرقی سرحد پر کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے افغان مسئلہ کے پر امن حل کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا، انہوں نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنر ل اور سیکورٹی کونسل کے صدر کوپلوامہ واقعہ کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تحقیقات کی پیشکش کے متعلق بھی آگاہ کیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ بھارت قابل عمل ثبوت فراہم کرے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی کہ امکانی خطرناک صورتحال کے خاتمہ کے لئے وہ اپنا کردار ادا کریں اور کشیدگی ختم کرائیں جو قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان نے جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کےلئے بھارت کے ساتھ بامقصد اور تعمیری مذاکرات کا تہیہ کر رکھا ہے جو ہمارے خطہ میں پائیدارامن کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ وہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، اس وقت خطہ میں مشکل حالات ہیں، سیکرٹری جنرل نے کہا کہ میں نے پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا خط بھی پڑھا ہے اور وہ وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب سے بھی آگاہ ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے کشیدگی ختم کرانے میں مدد دینے کے لئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ آئندہ بھی اپنی مدد کے لئے تیار رہیں گے جنہوں نے خطہ میں امن و استحکام کے لئے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ ملیحہ لودھی نے کہا میں نے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی کہ وہ سیکورٹی کونسل کے ارکان کو ان کی جانب سے اٹھائے گئے نکات سے آگاہ کریں۔

Leave a Reply