اقوام متحدہ کا اپنی رپورٹ میں حکومت پاکستان کی جانب سے دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف کی گئی کارروائیوں کا اعتراف

نیویارک ۔6فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے اپنی جاری کردہ نئی رپورٹ میں حکومت پاکستان کی جانب سے دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف کی گئی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے ۔رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشتگرد گروپ تحریک طالبان پاکستان گزشتہ سال تین ماہ کے دوران 100 سے زائد سرحد پار حملوں میں ملوث رہا ہے۔ رپورت میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے تحریک …

نیویارک ۔6فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے اپنی جاری کردہ نئی رپورٹ میں حکومت پاکستان کی جانب سے دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف کی گئی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے ۔رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشتگرد گروپ تحریک طالبان پاکستان گزشتہ سال تین ماہ کے دوران 100 سے زائد سرحد پار حملوں میں ملوث رہا ہے۔ رپورت میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دہشتگردی کے لاحق خطرات کے بارے میں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا ۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے سلامتی کونسل کیلئے تیار کردہ ستائیویں رپورٹ میں القاعدہ اور دیگر انتہاپسند گروپس اور پاکستان میں دہشتگردی کیلئے مالی معاونت کرنے والے افراد کی گرفتاریوں اور ان کے املاک کو منجمند کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سفارتکاروں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا ایک ایسے وقت میں اعتراف کیا گیا ہے جب بھارت کی جانب سے پاکستان پر ان دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مسلسل الزام لگایا جا تارہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کے منقسم دھڑوں کے افغانستان میں دوبارہ ایک ہونے کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ دہشتگرد گروپ جنہوں نے جولائی اور اگست 2020ءمیں تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کی ان میں شہریار مسعود گروپ، جماعت لاحرار، حزب لاحرار،امجد فاروقی گروپ اور عثمان سیف اللہ گروپ(لشکرجھنگوی) شامل ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے تحریک طالبان پاکستان میں دیگر دہشتگرد گروپوں کی شمولیت سے پاکستان اور خطے کیلئے دہشتگردی کے خطرات میں اضافہ ہوا کیونکہ اس سے تحریک طالبان پاکستان کی قوت اور پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کو جولائی اور اکتوبر 2020ءکے دوران 100 سے زائد سرحد پار حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوئوں کی تعداد 2500 سے 6000 کے درمیان ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو بھارت کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار دہشتگرد گروپوں کی پشت پناہی کرنے کے حوالے سے مراسلہ پیش کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267ویں سینگشنز کمیٹی کی جانب سے بھی دونوں دہشتگرد گروپوں کی نشاندھی کی گئی تھی۔