چینی صدر کا امریکا کا اہم دورہ آئندہ ہفتے شروع ہو گا، ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اہم اور حساس معاملات پر مذاکرات کریں گے

چین کے صدر کا ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد پہلا سرکاری دورہ امریکا آئندہ ہفتے شروع ہورہا ہے جس دوران وہ وائٹ ہائوس میں امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اہم اور حساس معاملات پر مذاکرات کے علاوہ غیر رسمی رابطے بھی بڑھائیں گے

واشنگٹن۔20ستمبر (اے پی پی):چین کے صدر کا ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد پہلا سرکاری دورہ امریکا آئندہ ہفتے شروع ہورہا ہے جس دوران وہ وائٹ ہائوس میں امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اہم اور حساس معاملات پر مذاکرات کے علاوہ غیر رسمی رابطے بھی بڑھائیں گے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق سینئر امریکی انتظامی حکام نے گزشتہ روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بدھ کو جب شی جن پنگ کا طیارہ واشنگٹن کے مضافات میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز پر اترے گا تو صدر ٹرمپ استقبال کے لیے خود وہاں موجود ہوں گے اور چینی ہم منصب کا خیرمقدم کریں گے، یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ صدر ٹرمپ عموماً غیر ملکی سربراہان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کرتے ہیں۔دورے کا اہم ترین مرحلہ جمعرات کو ہو گا جب صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ استقبالیہ تقریب میں صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان کا خیرمقدم کریں گے۔ صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ روز گارڈن میں فوجی دستوں کا معائنہ بھی کریں گے جس کے بعد دونوں رہنما بند کمرے میں مذاکرات کے لیے چلے جائیں گے۔خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور پنگ لی یوان کی اس دوران الگ ملاقات ہوگی جبکہ دونوں کے شوہر اہم مذاکرات میں مصروف ہوں گے۔ صحافیوں کو شی جن پنگ کے دورے کے بارے میں بریفنگ دینے والے حکام نے اس ملاقات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ آئندہ جمعرات کی شب صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان اس سرکاری عشائیے میں مہمانِ خصوصی ہوں گے جو صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں چینی وفد کے اعزاز میں دیں گے۔ دونوں رہنما تقریب سے خطاب بھی کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے سرکاری عشائیے کے کچھ مہمانوں کے نام جاری کر دیے ہیں ، کاروباری رہنماؤں میں ایمازون کے بانی جیف بیزوس، ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک، گوگل کے سُندر پچائی، ڈیل ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو مائیکل ڈیل سمیت ٹیکنالوجی کے شعبے کی کئی اہم شخصیات شامل ہیں۔بعدازاں جمعے کو شی جن پنگ اور پنگ لی یوان دوبارہ وائٹ ہاؤس آئیں گے جہاں ان کی صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول کے ساتھ چائے کی نجی نشست ہوگی، اس کے بعد ٹرمپ جوڑے کو نیشنل آرکائیوز کا دورہ کرائیں گے۔امریکی حکام نے دورے کے دیگر اہم اور پالیسی سے متعلق امور کے بارے میں کہا کہ امریکا اور چین کچھ غیر سٹریٹجک اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔سینئر امریکی حکام نے صحافیوں کو دورے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ایسی محدود نوعیت کی اشیا ءمتاثر ہوسکتی ہیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے۔حکام نے یہ اعتراف ضرور کیا کہ انہیں توقع نہیں کہ امریکا اپنی برآمدی پابندیوں میں ایسی نرمی کے لیے تیار ہوگا جس سے نایاب معدنیات کی عالمی منڈی میں رسد میں نمایاں اضافہ ہوسکے۔ یہ معدنیات مصنوعات کی ایک وسیع رینج میں استعمال ہونے والے اہم اجزا ہیں۔امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ ہفتے کے اختتام پر الگ سے نیویارک میں چین کے نائب وزیرِ اعظم حے لِفِنگ سے ملاقات کریں گے جس میں متعدد اقتصادی امور پر بات ہوگی۔ منصوبے سے واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ کہا کہ مصنوعی ذہانت بھی مذاکرات کا ایک اہم موضوع ہوگی۔ایجنڈے میں چین کے پاس موجود نایاب معدنیات کے ذخائر بھی شامل ہوں گے جو سمارٹ فونز سے لے کر لڑاکا طیاروں تک ہر چیز کی تیاری کے لیے ضروری ہیں۔ بیجنگ نے ان معدنیات پر اپنی تقریباً اجارہ داری کو امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے استعمال کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے مئی میں چین کا دورہ کیا تھا اور اپنے پہلے صدارتی دور میں بھی وہاں گئے تھے جہاں انہوں نے شی جن پنگ سے مذاکرات کیے تھے۔ اس موقع پر چینی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب کا انتہائی پرتکلف استقبال کیا تھا۔شی جن پنگ آخری مرتبہ ستمبر 2015 میں امریکا کے سرکاری دورے پر آئے تھے جب ڈیموکریٹ صدر براک اوباما کے دورِ حکومت میں انہوں نے امریکا کا دورہ کیا تھا۔