اقوام متحدہ کا غزہ کی پٹی میں امداد کی معطلی پر تشویش کا اظہار ،انسانی امداد کی فوری بحالی کا مطالبہ

اقوام متحدہ۔3مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں امداد کی معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی امداد کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نےاسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں امداد کی معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی امداد کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ مطالبہ اسرائیل کی جانب …

اقوام متحدہ۔3مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں امداد کی معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی امداد کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نےاسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں امداد کی معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی امداد کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے یہ مطالبہ اسرائیل کی جانب سے محصور فلسطینی علاقوں میں سامان اور رسد کے داخلے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نےغزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی بحالی اور تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ دہرایا۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ غزہ میں جنگ سے بچنے کے لیے ہرممکن اور ضروری کوششیں کریں۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد کی معطلی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کا غزہ کے لیے امداد معطل کرنے کا فیصلہ پریشان کن ہے۔ بین الاقوامی قانون واضح ہے ہمیں زندگیاں بچانے والی امداد کی فراہمی جاری رکھنی چاہیے۔

انہوں نے جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے گذشتہ 42 دنوں میں ہونے والی پیش رفت پر پیچھے نہ ہٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کو برقرار رہنا چاہیے۔ بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کی صدر میرجانا سپولجارک ایگر نے بھی غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور لوگوں کو مایوسی کی طرف دھکیلنے سے بچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے گزشتہ روز بیان میں کہا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جانی چاہیے تاکہ لڑائی سے جانیں بچائی جا سکیں۔انہوں نے کہا غزہ میں انسانی امداد کی اجازت دی جائے اور مزید خاندانوں کو امداد میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 15 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے نے بے شمار جانیں بچائیں اور ناقابل تصور مصائب کے درمیان امید کی کرن فراہم کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ ہفتوں کی رفتار میں کسی بھی طرح کی کمی لوگوں کو مایوسی کی طرف دھکیلنے کا خطرہ ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے اتوار کو غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد کی معطلی کا اعلان کیا تھا۔

مزید خبریں