پلوامہ واقعے کی آڑ میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کی کوشش کی گئی، دشمن اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہا، گورنر خیبرپختونخوا

پلوامہ واقعے کی آڑ میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کی کوشش کی گئی، دشمن اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہا، گورنر خیبرپختونخوا

بونیر۔ 05 جولائی (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پلوامہ واقعے کی آڑ میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کی کوشش کی گئی، دشمن اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہا۔ اتوار کو ضلع بونیر میں منعقدہ ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر حملہ کیا گیا تو پاکستان نے بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جس کے بعد عالمی قیادت نے وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سے رابطہ کرکے جنگ بندی کی درخواست کی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ذمہ دارانہ سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا جس کے باعث دنیا آج پاکستان کو امن کا داعی اور ضامن تسلیم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا، چین، روس اور عرب ممالک سمیت عالمی برادری پاکستان کے مثبت اور متوازن کردار کو سراہ رہی ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی مفادات کے تحفظ اور عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا جسے دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم پانچ جولائی کو یوم سیاہ منارہے ہیں جب ایک آمر نے جمہوریت اور ملکی ترقی کا راستہ روکا، پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی تاریخی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا جبکہ صدر آصف علی زرداری جے ایف-17 تھنڈر ٹیکنالوجی پاکستان لائے جس سے ملکی دفاع مزید مضبوط ہوا۔ گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ دنیا میں امن کے قیام کے بعد ترقی اور سرمایہ کاری کا نیا دور شروع ہوگا اور پاکستان اس کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل ، سستی بجلی، پانی، تیل، گیس، معدنیات، سیاحت اور مذہبی سیاحت کے بے شمار مواقع سے مالا مال صوبہ ہے، تاہم اس ترقی کے لیے امن بنیادی شرط ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ صوبائی حکومت سے کہتے آئے ہیں کہ آئین کے مطابق وفاق کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں تاکہ صوبہ ترقی، خوشحالی اور سرمایہ کاری کا مرکز بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش کا معاملہ ہم نے وفاق کے ساتھ اٹھایا اور مسئلہ حل ہوا ، اسی طرح گندم کی بندش کے حوالہ سے بھی بھرپور کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گیس اور بجلی لوڈ شیڈنگ کے حوالہ سے بھی بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پارٹی کارکن ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

انہوں نے کامیاب پارٹی کنونشن کے انعقاد پر ضلعی قیادت، منتظمین اور کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی سیاسی وابستگی، نظم و ضبط اور جذبے کو سراہا۔ کنونشن سے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا، ہلال احمر خیبر پختونخوا کے چیئرمین فرزند علی وزیر، سابق وفاقی وزیر ساجد حسین طوری ، ضلعی صدر بونیر یوسف خان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

مزید خبریں