جینوا۔14فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میانمار کے معاملے پر منقسم ہو گئی ہے۔ جنیوا میں ایک خصوصی اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے میانمار میں یکم فروری کو فوج کے ہاتھوں حکومت کا تختہ الٹا جانے کے بعد وہاں کی صورت حال پر ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں عملاً ملک کی رہنما آنگ سان سو چی اور صدر وِن …
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میانمار کے معاملے پر منقسم

مزید خبریں
جینوا۔14فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میانمار کے معاملے پر منقسم ہو گئی ہے۔ جنیوا میں ایک خصوصی اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے میانمار میں یکم فروری کو فوج کے ہاتھوں حکومت کا تختہ الٹا جانے کے بعد وہاں کی صورت حال پر ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں عملاً ملک کی رہنما آنگ سان سو چی اور صدر وِن مینٹ سمیت زیر حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔چین، روس اور دیگر نے رائے دہی میں حصہ نہیں لیا۔ انکے مندوبین نے کہا کہ وہ خود کو اس قرار داد سے لا تعلق کر رہے ہیں۔میانمار کے سفیر نے اس دستاویز کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی تھامس اینڈریوز نے حکومتی عہدیداران اور انسانی حقوق کے رہنماؤں کی حراست کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان گرفتاریوں کی مذمت کی۔
انہوں نے ان تقویت پاتی اطلاعات اور تصویری شواہد کا حوالہ بھی دیا کہ سلامتی افواج نے مظاہرین پر حقیقی گولا بارود استعمال کیا۔قرارداد میں، تشدد سے پرہیز اور انسانی حقوق، آزادی کے بنیادی حقوق اور قانون کی مکمل پاسداری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔








