اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا اسپینوسا نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے حل کیلئے واحد راستہ پر امن مذاکرات ہیں۔پاکستان نے دردناک تجربہ کے بعد انسداد دہشت گردی میں کامیاب رد عمل کی استعداد حاصل کی ہے۔ دورہ پاکستان کے موقع پر ”اے پی پی“ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں جب ان …
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا اسپینوسا کا دورہ پاکستان کے موقع پر ”اے پی پی“ کو خصوصی انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا اسپینوسا نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے حل کیلئے واحد راستہ پر امن مذاکرات ہیں۔پاکستان نے دردناک تجربہ کے بعد انسداد دہشت گردی میں کامیاب رد عمل کی استعداد حاصل کی ہے۔ دورہ پاکستان کے موقع پر ”اے پی پی“ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں جب ان سے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر قتل عام ،عصمت دری ،اغوا کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کی صورتحل کے حل کیلئے واحد راستہ پر امن ذرائع کے ذریعے مذاکرات ہیں ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر کشمیر کا تنازعہ حل طلب ہے اور مقبوضہ جموں کشمیر میں سول آبادی مسلسل انسانی حقوق کی سنگین خلاف وزیوں کا نشانہ ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس قسم کے تنازعات کے پر امن اور پائیدار حل کیلئے بات چیت ہی واحد ہتھیار ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز نے جمعہ کو نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات کے حل کیلئے بامعنی مذاکرات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر واضح بات کی ہے۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طویل جنگ کے حوالے سے اسپنوسا نے کہا کہ ایک دردناک تجربہ کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جواب اور استعداد حاصل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اوریہ سرحدوں سے بالا تر مسئلہ ہے اس کیلئے مضبوط عالمی کارروائی کی ضرورت ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کی عالمی امن کیلئے کوششوں کو سراہا جو دنیا کے 4 بڑے ممالک میں سے اس مشن میں کردار ادا کرنے والا ایک ملک ہے جس کے جوان دنیا کے تنازعہ سے بھر پور مختلف حصوں میں تعینات ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر نے کہا کہ گزشتہ 4 دہائیوں سے 27 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی اور مہاجرین کی صورتحال سے نمٹنے پر پاکستان تعریف کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہجرت کرنے والے 80 فیصد مہاجرین کی میزبانی ترقی پذیر ممالک کررہے ہیں۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بوجھ میں شراکت دار بنیں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر میں مہاجرین کے حوالے سے بوجھ میں وسیع تعاون کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کا 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ شاندار ہے اس سے پانی محفوظ کرنے میں اضافہ اور زمین کا معیار بہتر ہوگا۔اس منصوبے کو دیگر ممالک کی طرف سے مثال بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اسلام آباد میں پودا لگانے کے بعد کہا کہ وہ 10 ارب میں سے اپنے حصے کا ایک پودا لگا کر اس میں علامتی طور پر شریک ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن برائے ماحولیاتی تبدیلی ایک مجموعی اصول کے ساتھ ساتھ ذمہ داریوں کے تعین کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے ایجنڈا 2030ءکے حوالے سے درست سمت گامزن ہے تاہم انہوں نے معیاری تعلیم تک رسائی بلخصوص خواتین اور بچیوں کے حوالے سے مزید اقدامات پر زور دیا۔








