کراچی پورٹ کی’’لائنر شپنگ کنکٹیویٹی‘‘ کی سطح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ، جنیدانوار چوہدری

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی پورٹ کی’’لائنر شپنگ کنکٹیویٹی‘‘ (بحری جہازوں کی باقاعدہ آمدورفت کے ذریعے رابطے) کی سطح اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور 2026 کی دوسری سہ ماہی میں اس کا ’’پورٹ لائنر شپنگ کنکٹیویٹی انڈیکس‘‘ (PLSCI) سکور بڑھ کر 343 ہو گیا ہے۔

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی پورٹ کی’’لائنر شپنگ کنکٹیویٹی‘‘ (بحری جہازوں کی باقاعدہ آمدورفت کے ذریعے رابطے) کی سطح اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور 2026 کی دوسری سہ ماہی میں اس کا ’’پورٹ لائنر شپنگ کنکٹیویٹی انڈیکس‘‘ (PLSCI) سکور بڑھ کر 343 ہو گیا ہے۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جمعرات کو ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ایل ایس سی آئی جو دنیا بھر کی تقریباً 900 بندرگاہوں کے رابطے کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، عالمی شپنگ نیٹ ورک میں کراچی پورٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ کا ہی ایل ایس سی آئی اسکور 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 309.81 سے بڑھ کر دوسری سہ ماہی میں 343.02 ہو گیا، جو ان اعداد و شمار کے احاطہ کردہ عرصے کے دوران ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ سکور ہے۔جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ بہتری پاکستان کی مرکزی بندرگاہ اور بین الاقوامی لائنر شپنگ سروسز کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحری رابطوں میں مضبوطی تجارتی بہاؤ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، عالمی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنا سکتی ہے اور برآمد کنندگان و درآمد کنندگان کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، کراچی پورٹ کا پی ایل ایس سی آئی کی دوسری سہ ماہی میں 329.24 تھا، جو تیسری سہ ماہی میں کم ہو کر 319.20 اور چوتھی سہ ماہی میں 323.67 ہو گیا تھا۔ یہ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 321.70 اور دوسری سہ ماہی میں 321.84 ریکارڈ کیا گیا جبکہ تیسری سہ ماہی میں گر کر 298.56 پر آ گیا تھا۔

اس کے بعد انڈیکس میں بہتری آئی اور یہ 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں 321.91 اور 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 309.81 تک پہنچا اور پھر دوسری سہ ماہی میں 343.02 کی سطح پر آ گیا۔ وزیر نے کہا کہ اس اضافے سے پاکستان کے بحری تجارتی رابطوں کو مضبوط بنانے میں ہونے والی پیش رفت ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے ملک کی مجموعی ’’لائنر شپنگ کنکٹیویٹی انڈیکس‘‘ (ایل ایس سی آئی) درجہ بندی میں 35 ویں سے 34 ویں نمبر پر آنے والی بہتری کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں کو بین الاقوامی تجارت اور علاقائی رابطوں میں زیادہ اہم کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ پر رابطوں میں بہتری سے تجارت کو سہولت ملے گی اور عالمی منڈیوں کے ساتھ ملک کے روابط مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بندرگاہی خدمات کو بہتر بنانے، جہاز رانی کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے اور تجارت و سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بندرگاہوں کے درمیان مضبوط روابط کا تعلق تجارت کے وسیع تر مواقع سے ہے اور یہ پاکستانی کاروباروں کو بین الاقوامی منڈیوں کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے منسلک ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایل ایس سی آئی اور ایک ایس سی آئی کے تازہ ترین اعداد و شمار کو سمندری شعبے کو جدید بنانے اور ملک کی بندرگاہوں کی کارکردگی اور مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کی کوششوں کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سمندری روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پورٹ اتھارٹیز، شپنگ لائنز اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔انہوں نے تازہ ترین اعداد و شمار کو "مضبوط عالمی روابط، تجارت کے مزید مواقع اور ایک زیادہ مربوط پاکستان” کی عکاسی کرنے والا قرار دیا۔

 

مزید خبریں