لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ اختتام پذیر، معیشت، ٹیکنالوجی اور عالمی مقام کے لئے لائحہ عمل پیش

نٹ شیل گروپ کے زیر اہتمام لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ کا 9 واں ایڈیشن جمعرات کو اختتام پذیرہوا۔ ’’دی نیکسٹ موو‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایونٹ میں وفاقی وزراء، عالمی اداروں کے نمائندگان اور پاکستان کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔چھ مختلف نشستوں میں عالمی اداروں کے رہنمائوں اور صنعت سے وابستہ اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی جس میں جغرافیائی سیاست اور معیشت سے لے کر …

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):نٹ شیل گروپ کے زیر اہتمام لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ کا 9 واں ایڈیشن جمعرات کو اختتام پذیرہوا۔ ’’دی نیکسٹ موو‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایونٹ میں وفاقی وزراء، عالمی اداروں کے نمائندگان اور پاکستان کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔چھ مختلف نشستوں میں عالمی اداروں کے رہنمائوں اور صنعت سے وابستہ اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی جس میں جغرافیائی سیاست اور معیشت سے لے کر کاروبار، ٹیکنالوجی اور مسابقتی منظرنامے، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل تبدیلی سے لے کر سرمایہ اور مالیات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے محمد اظفر احسن نے کہا کہ ہم یہ کانفرنس پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے کرتے ہیں، پاکستان اس وقت اہم پوزیشن میں ہے، ہر کوئی پاکستان کی بات کررہا ہے، دنیا جاننا چاہتی ہے کہ پاکستان کا اگلا قدم کیا ہوگا، ہمیں اگلے 25 سال کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ سمٹ کے افتتاحی سیشن سے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی ترقی کا سفر جاری ہے اور پاکستان پائیدار معاشی ترقی کے ماڈل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری آ ئی ہے۔ ترسیلات زر میں مستحکم اضافے اور آئی ٹی برآمدات بڑھنے سے کرنٹ اکائونٹ کو فائدہ ہوا۔ پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالرز کے بانڈ کا اجراء سنگ میل ہے، چار سال بعد عالمی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے، بانڈ کے نتائج مطلوبہ حجم سے دو گنا رہے۔

ایشیائی سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی لی جو پاکستان پر اعتماد کی علامت ہے۔ پاکستان امداد پر مبنی تعلقات سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کی واضح سمت متعین کرلی گئی ہے۔ برآمد کنندگان کو 4.5 فیصد کی شرح پر ری فنانس فراہم کیا جا رہا ہے۔پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہونے کے باوجود برآمد کنندگان کو 4.5 فیصد ری فنانس مل رہا ہے۔ روایتی برآمدی شعبوں کو مزید مسابقتی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ گزشتہ مالی سال جی ڈی پی نمو تقریبا 3.7 فیصد رہی جبکہ سٹیٹ بینک نے رواں مالی سال جی ڈی پی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے استحکام کے لیے ہرممکن اقدامات کررہے ہیں، موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ہمیں پیداواری صلاحیت میں اضافے پر بھی سنجیدہ گفتگو کرنا ہوگی، نجی شعبے کو فعال بنانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کررہے ہیں۔ نئے عالمی معاشی نظام میں ہم کاروبار کے فرسودہ اور نسل در نسل چلے آنے والے طریقہ کار کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ پائیدار معاشی ترقی کیلئے درست ایکو سسٹم کی فراہمی، کنیکٹیویٹی اور ڈیٹا اہم ہیں ۔ٹیکس ادارے پر عوام کا اعتماد اور ساکھ بحال کرنا ہوگی۔ رابطوں کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے فائیو جی ٹیکنالوجی اہم ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر موثر معاشی پالیسی بنانا ممکن نہیں، معاشی استحکام کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مشاورت ناگزیر ہے۔ بجٹ میں نجی شعبے نے حکومت کے سامنے اپنی ترجیحات پیش کیں جن کی بنیاد پر حکومت نے جہاں ممکن ہوا ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں مزید رابطے کی ضرورت ہے جس سے عوام کو فائدہ ہوگا۔مقامی سطح پر اختیارات دینا اوراین ایف سی کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ حکومت ایکسپورٹ سیکٹر پر توجہ دے رہی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ معاشی استحکام کے بعد زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل اضافہ یقینی بنانا ہوگا۔

وفاقی وزیر اورنجکاری کے لیے وزیراعظم کے مشیر محمد علی نے کہا کہ ہمیں معاشی ترقی کے طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہوگا، 2050ء تک پاکستان کی آبادی تقریبا 39 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ہمارا بڑا چیلنج افرادی قوت اور انفراسٹرکچر کو پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنا اور ٹیکنالوجی تخلیق کرنے والا ملک بننا ہوگا۔ہماری خواہش ہے کہ بڑے پیمانے پر پیداواری کاروباری ادارے ہوں جو عالمی اداروں کے ساتھ مقابلہ کریں۔پاکستان کو مضبوط تعلیمی نظام اور افرادی قوت میں مساوی شمولیت کی ضرورت ہے۔ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہوگا جہاں شہر پیداواری مراکز ہوں۔نوجوانوں کو ایسی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہوگا جو انہیں پاکستان کے معاشی مستقبل میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے سپر ٹیکس ختم کیا ، شرح سود اور مہنگائی میں کمی آئی ہے جبکہ ملکی کرنسی بھی مستحکم ہوئی ہے۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ہمیں مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم ، صحت، انصاف، تحفظ اورضروریات زندگی کے سامان کی فراہمی کرے اور یہ سب کرنے کے لیے پیسے کی ضرورت ہے ۔پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے پر تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اکٹھے ہوئے۔نجکاری کی رقم کا ایک حصہ حکومت کو ملا جبکہ بڑا حصہ پی آئی اے کی بحالی کے لیے ادارے میں لگایا گیا۔ مستقبل میں بھی یہی اصول اپنانا ہوگا۔پاکستان میں حقیقی معاشی ترقی کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ باوقار زندگی وہ ہے جس میں لوگوں کو تعلیم، مناسب طبی سہولتوں، صاف پینے کے پانی اور بنیادی انفراسٹرکچر تک رسائی حاصل ہو۔ صرف غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کو ترقی کے مواقع حاصل نہ ہوں بلکہ عام شہری بھی عزت و وقار اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ پاکستان کا ایک بڑا طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ ہماری غریب عوام کی اکثریت کے پاس جدید دور کے مطابق اعلیٰ مہارتیں موجود نہیں ہیں۔ جب تک ہماری نسلوں کو دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیم نہیں ملے گی، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نئی وبائیں اور نئی جنگیں ہمیشہ سامنے آتی رہیں گی لیکن اہمیت اور فوری نوعیت کے حامل مسائل کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ توانائی کی لاگت، ٹیکسوں اور مسابقتی صلاحیت جیسے معاملات پر فوری نوعیت کے چیلنجز کے ساتھ ساتھ توجہ دینا ضروری ہے۔

سابق نگران وزیراعظم سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ حکومت کے لیے مقررہ ترقیاتی اہداف حاصل کرنا ناگزیر ہے۔مستحکم اور پائیدار معاشی ترقی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔پاکستان کے 78 سالہ سفر میں حقیقی معاشی اور سماجی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ترقی کا اصل معیار یہ ہے کہ لوگ اپنے مقامی حالات کے مطابق باوقار زندگی گزار سکیں۔انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کا تسلسل اشرافیہ کی موجودگی میں برقرار نہیں رہ سکتا۔۔ اشرافیہ کا قبضہ پالیسیوں کی منسوخی کا باعث بنتا ہے جس سے تسلسل ٹوٹتا ہے اور ملکی ترقی کو نقصان پہنچتا ہے۔پالیسیوں کے اس تسلسل کو بچانے کا واحد حل باہمی مشاورت اور سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ملکی پالیسیوں کو کسی مخصوص گروہ کے مفادات کے بجائے صحت مند مقابلے اور قومی مفاد کے تابع ہونا چاہیے۔ وزراء اور سیکرٹریز کو پالیسیوں کے نفاذ اور عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

اشرافیہ کے قبضے کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب اقتدار میں موجود لوگ خود کو احتساب کے لیے پیش کریں۔ملکی ترقی اور پائیدار پالیسیوں کے لیے حکومتی عہدیداروں کا ذاتی احتساب ناگزیر ہے۔ٹی سی ایس ہولڈنگ کی صدر سائرہ اعوان ملک نے کہا کہ 96 فیصد مقامی مال بردار نظام غیر موثر اور ریگولیشنز سے محروم ہے۔ پاکستانی بندرگاہوں پر بھیڑ، تاخیر اور نقصانات ڈیجیٹلائزیشن کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ٹرانسپورٹ کا پورا نظام بکھرا ہوا ہے، تمام شراکت داروں کو ملا کر ایک مضبوط ’وزارت ٹرانسپورٹیشن‘ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر اباکس فاطمہ اسد سعید نے کہا کہ ہمیں ڈیجیٹلائزیشن اور ٹرانسفارمیشن کے فرق کو سمجھنا ہوگا۔ڈیجیٹلائزیشن صرف سافٹ وئیر ای پی آر کے ذریعے اداروں کو آٹومیٹ کرنے کا نام ہے۔

حقیقی تبدیلی کا مطلب اداروں کے گورننس، فیصلہ سازی اور اندرونی ڈھانچے کو بدلنا ہے۔رف مینوئل کام کو کمپیوٹر سکرین پر منتقل کر دینا ڈیجیٹل تبدیلی نہیں ہے۔اداروں کو اپنے بیک اینڈ ورک فلو اور کام کرنے کے طریقوں پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔مصنوعی ذہانت کو اپنانا محض ایک آئی ٹی کا فیصلہ نہیں ہے۔اے آئی کے استعمال کے لیے واضح گورننس، بورڈ اور سی ای او کی سرپرستی لازمی ہے۔مینجنگ ڈائریکٹر ایس اینڈ پی گلوبل مجیب ظہورنے کہا کہ جنریٹیو اے آئی کا اثر صرف کسی ایک کمپنی یا ایک شعبے تک محدود نہیں رہے گا۔مختلف شعبوں سے وابستہ کاروباری ادارے ابھی سے جنریٹیو اے آئی کے اثرات دیکھ رہے ہیں۔کاروباری اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ مارکیٹ میں نئی ویلیو کہاں پیدا ہو رہی ہے۔

جدید ترین ٹیکنالوجی کو درست سمت میں لانے کے لیے دور اندیش قیادت کی اشد ضرورت ہے۔مینجنگ ڈائریکٹر گروتھ مارکیٹ یونٹس ایس اے پی ثاقب صباح نے کہا کہ آج کے جدید ترین دور میں بزنس اےآئی ناگزیر ہو چکی ہے۔ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہوتی تبدیلیوں کے ساتھ ہم خود بھی مسلسل سیکھ رہے ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ تمام سیکٹرز کو ان کی ضروریات کے مطابق ڈیل کریں اور سلوشنز فراہم کریں۔اے آئی کے اس جدید دور میں اب اے آئی ایجنٹس بات کریں گے۔ سی ای او جاز ورلڈ اور چیئرمین موبی لنک بینک، جاز کیش اور ٹی پی ایل انشورنس عامر ابراہیم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، دنیا میں 3 ٹریلین ڈالرز اے آئی کی فیکٹریوں کے قیام پر خرچ کیے جاچکے ہیں۔کامیابی کے لیے اے آئی کا استعمال ضروری ہے، ہمیں بھی اے آئی سے متعلق موثر پالیسیاں بنانی ہوں گی۔اے آئی پر مبنی معیشت میں شراکت داری کی صلاحیت ہوتی ہے جس کے فوائد ہر کسی تک پہنچتے ہیں۔

ڈیجیٹل معیشت کے اگلے مرحلے کیلئے ڈیٹا سینٹرز، اے آئی انفر اسٹرکچر اور ڈیجیٹل رسائی کے لیے مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔اے سی سی اے کی گلوبل ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوسیا رئیل مارٹن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) آج کے دور میں اہمیت حاصل کرتی جا رہی ہے اور پاکستان کو بھی اس جدید دور میں شامل ہونا چاہیے ۔اے سی سی اے پاکستان کو دنیا سے منسلک کرنے کی کوشش کررہی ہے۔کوکا کولا کے سینئر ڈائریکٹر پپلک افیئرز سسٹین ایبلٹی اینڈ کمیونی کیشن پاکستان اینڈ افغانستان فیصل ہاشمی نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں پاکستان میں بیوریجز انڈسٹری میں 3 ارب ڈالرز کی سرمایہ ہوئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر شعبے میں سرمایہ کاری ہو تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر انفراز ضامن پاکستان ماہین رحمان نے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کے لیے فنانس تک رسائی آسان نہیں اورنجی شعبے کو فنڈز فراہم کرنے کی ہماری صلاحیت صرف 9 فیصد ہے جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں نجی شعبے کا قرضہ 25 سے 35 فیصد ہے۔

رسک شیئرنگ میکنزم کے ذریعے زراعت، ایس ایم ایز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے نجی سرمایہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ایس وی پی ٹیلی نار گروپ اور چیئرمین ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک عرفان وہاب خان نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ماڈلز نیویارک سے ملتان تک ہر جگہ یکساں دستیاب ہیں۔ہماری کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم بطور قوم ان ماڈلز کو کیسے اپناتے ہیں۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ریجنل ڈائریکٹر سمن اینڈریونے کہا کہ بہت زیادہ مواقع ہونے کے باوجود پاکستان عالمی دنیا میں بہت پیچھے ہے ۔پاکستان میں سیاحت ، تعلیم، ہائی ویلیو ایکسپورٹ، عالمی معیار کے پروڈکٹس، ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت پوٹینشل ہے۔ پاکستان میں 40 فیصد فصلیں ضائع ہو جاتی ہیں، پانی کے بحران کے باعث کاشتکار کو مشکلات کا سامنا ہے۔ایگریکلچرل کے شعبے میں سرمایہ کاری سے نہ صرف کسان کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ زرعی معیشت میں بھی استحکام آئے گا۔

انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر سیموئل رزک نے کہا کہ پاکستانی معیشت 2035ء تک 1ٹریلین ڈالرزتک پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان کا شمار کم آمدن والے ممالک میں ہوتا ہے اور گزشتہ تین سال میں اس میں مزید کمی آئی ہے۔ غربت بڑھی ہے، تعلیم کی صورتحال خراب ہوئی ہے اور روز گار کے مواقع کم ہوئے ہیں۔ جب تک حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر آپس میں تعاون نہیں کریں گے پاکستان اوپر جانے کے بجائے اور نیچے جائے گا۔ریجنل منیجنگ ڈائریکٹر اکیومین، بانی اور منیجنگ پارٹنر اے سی اے پی فنڈ ڈاکٹر عائشہ کے خان نے کہا کہ سیلاب سے بچائو اور موسمیاتی مطابقت کے ہر منصوبے سے تجارتی منافع ممکن نہیں، موسمیاتی مطابقت کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل کا حصول بڑا چیلنج ہے۔موسمیاتی منصوبوں کو موزوں ترین سرمایہ کار اداروں سے منسلک کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

منیجنگ ڈائریکٹر بی اے ایس ایف پاکستان اینڈریو بیلی نے کہا کہ نوجوان آبادی کا مطلب خود بخود خوشحالی نہیں بلکہ انہیں آمدنی کے ذرائع فراہم کرنا ہوں گے۔پیداواری صلاحیت اور مواقع کا اصل تعلق نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے میں ہے۔پاکستان میں زراعت سمیت دیگر شعبوں میں تخلیقی مواقع کی وسیع گنجائش موجود ہے۔زراعت کا مقصد محض فصلیں اگانا نہیں بلکہ کیمیائی توانائی پیدا کرنا ہے۔چیف آف سٹاف اینڈ سٹریٹجی آفیسر، ویون گروپ سرکان اوزترک نے کہا کہ ویون گروپ 5 مارکیٹس میں کام کر رہا ہے لیکن پاکستان کا ڈیجیٹل ماحول بہترین ہے۔پاکستان کے پاس ایک بہت بڑی اور باصلاحیت ڈیجیٹل آبادی موجود ہے۔ویون گروپ پاکستان میں روایتی ڈیٹا سینٹرز کے بجائے جدید ترین ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کرے گا۔

انٹرپنیور ان ریزیڈنس ابھی گروپ کبیر نقوی نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ میں ابھی گروپ بی ٹو سی بزنس کررہا ہے۔ بی ٹو سی میں بل کی ادائیگی میں ریمنٹس اور دوسری چیزیں شامل ہیں۔ ہم گزشتہ 9 ماہ میں 10 ارب روپے کے قرض دے چکے ہیں۔صدر اور سی ای او موبی لنک بینک حارث محمود چوہدری نے کہا کہ موبی لنک بینک صارفین کو بروقت، بہترین اور آسان ترین حل فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے۔صارفین کی دلچسپی کے مطابق سیونگز، انشورنس اور دیگر اہم مصنوعات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔گروپ چیف بزنس سلوشن آفیسر پی ٹی سی ایل گروپ آصف احمد نے کہا کہ کمپیوٹرز کی تیز رفتار ترقی نے وقت کے ساتھ ساتھ اے آئی کو اور زیادہ بہتر بنا دیا ہے۔انٹرنیٹ کنکٹیویٹی، ڈیٹا اور کولنگ سسٹم جیسی چیزیں یکجا ہو کر اب اے آئی ایجنٹس بن رہی ہیں۔پاکستان میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی، ڈیٹا اور جدید سسٹمز جیسے اہم عوامل کا فقدان ہے۔اگر پاکستان نے یہ بنیادی ٹیکنالوجیز حاصل نہ کیں تو ہم یہ سب سروسز کسی اور ملک سے لے رہے ہوں گے۔پاکستان کو اے آئی کے شعبے میں خود کفیل ہونے کے لیے اپنے بنیادی انفرا سٹرکچر کو مضبوط کرنا ہوگا۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر این بی پی فنڈز ڈاکٹر امجد وحید نے کہا کہ سبسڈی اور امداد پر 2 ٹریلین روپے خرچ ہو رہے ہیں۔سبسڈی کے 2 ٹریلین روپے پرائیویٹ سیکٹر میں لگا کر معیشت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔سی ایف اے، سی ای او اور کوفانڈر لکی انویسٹمنٹ لمیٹڈمحمد شعیب نے کہا کہ امریکہ-ایران کشیدگی کے بعد عالمی مارکیٹ کے منظر نامے میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔فیول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اس سطح پر حاصل نہیں کی جا سکی جس کی امید تھی۔ بیرونی سرمایہ کاری کے برعکس مقامی سرمایہ کاری بڑھی ہے، سرس ٹائر کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں تقریبا تمام کے تمام سرمایہ کار مقامی ہیں۔سی ایف اے، چیف ایگزیکٹو آفیسر المیزان انویسٹمنٹ مینجمنٹ امتیاز غدر نے کہا کہ ملک میں شریعہ کمپلائنٹ اسلامک فنانس کی طرف رجحان بالکل واضح اور نمایاں ہے۔بینکنگ کے کل ڈیپازٹس میں اسلامک ڈیپازٹس کا حصہ اب 23 سے 24 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔میوچل فنڈز کے زیرانتظام کل اثاثوں کا تقریبا نصف 50فیصد حصہ اسلامک فنڈز پر مشتمل ہے۔

مارکیٹ میں مالیاتی مصنوعات کا ڈیزائن اب صارفین کی اسلامک ڈیمانڈ کے مطابق بدل رہا ہے۔چیف ایگزیکٹو رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک عمیر اعجاز نے کہا کہ پاکستان کے بینکنگ سسٹم میں شامل ہونے والے صارفین کے رجحان میں بڑی تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔فروری میں آغاز کے بعد سے رقمی بینک روزانہ تقریبا 2,000 نئے اکائونٹس کھول رہا ہے تاہم مالیاتی شمولیت کا مطلب بینک اکائونٹ کھولنا نہیں ہے بلکہ اصل مالیاتی شمولیت یہ ہے کہ ڈیٹا کو استعمال کر کے لوگوں کو فنانسنگ (قرض) فراہم کیے جائیں۔چیئرمین پاکستان بزنس کونسل زید بشیر نے کہا کہ سرمایہ کار وہیں جائیں گے جہاں منافع کمانے کے مواقع ہوں گے، پاکستان میں منافع کمانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ملک میں طویل مدتی پالیسیوں کا تسلسل سب سے بڑا چیلنج ہے تاکہ سرمایہ کار سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر منصوبہ بندی کر سکیں۔پاکستان کو ایک جامع معاشی چارٹرکی ضرورت ہے جو سیاسی اختلافات کے باوجود معاشی استحکام کو برقرار رکھے۔

سمٹ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سابق چیف آف ائیر سٹاف اور چیف ایگزیکٹو سٹریٹجک نٹ شیل گروپ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے کہا کہ ہم بہترین پالیسیاں اور بہترین معاشی ڈھانچے تو لکھ لیتے ہیں لیکن اصل کام ان پر عملدرآمد کروانا ہے۔پالیسی کو بہترین نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے واضح مقصد اور عملدرآمد سب سے اہم ہے۔ مئی 2025ء کے پاک بھارت فضائی ٹکرائو نے ثابت کیا کہ جدید جنگیں فوج کے حجم سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور تیاری سے جیتی جاتی ہیں۔مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنی دفاعی اور سٹریٹجک صلاحیتوں کو موثر طریقے سے استعمال کرنا ہوگا۔سمٹ کے دوران تمام معزز مقررین کو نٹ شیل گروپ کے بانی و چیئرمین اورسابق وزیر سرمایہ کاری محمد اظفر احسن کی تصنیف "Syed Babar Ali: A Centennial Tribute” پیش کی گئی۔

 

مزید خبریں