اقوام متحدہ کی 10 لاکھ ہیکٹر بنجر زمین کی بحالی پر سعودی عرب کی تعریف

ریاض۔30مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ نے 10 لاکھ ہیکٹر بنجر زمین کی بحالی پر سعودی عرب کی تعریف کی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق یو این کنونشن ٹو کومبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے مڈل ایسٹ گرین انیشیٹیو اور دی گلوبل لینڈ انیشیٹیو میں مملکت کی جانب سے بڑے عالمی ماحولیاتی اقدامات پر عمل درآمد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی ماحولیاتی اہداف کا حصہ تھا …

ریاض۔30مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ نے 10 لاکھ ہیکٹر بنجر زمین کی بحالی پر سعودی عرب کی تعریف کی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق یو این کنونشن ٹو کومبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے مڈل ایسٹ گرین انیشیٹیو اور دی گلوبل لینڈ انیشیٹیو میں مملکت کی جانب سے بڑے عالمی ماحولیاتی اقدامات پر عمل درآمد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی ماحولیاتی اہداف کا حصہ تھا جس کے تحت سعودی عرب نے قومی ماحولیاتی سنگ میل عبور کرتے ہوئے 10 لاکھ ہیکٹر بنجر زمین کو بحال کیا، یہ کامیابی مجموعی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے اور اس سے حقیقی معنوں پر ٹھوس تبدیلی کو یقینی بنانے کا واضح عزم ظاہر ہوتا ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے دنیا کے مشکل ترین ماحول میں زمین کی آبادی ممکن بنائی گئی ۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے عالمی ہدف حاصل کرنے میں مدد کی اور اس بات پر اہمیت دی کہ بنجر زمین کو آباد کرنا نہ صرف ماحولیاتی ترجیح ہے بلکہ یہ ایک ترقی اور انسانی کامیابی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششوں سے فوڈ سکیورٹی میں اضافہ ، مقامی معیشت کو تقویت ، روزگار کے مواقع پیدا اور متاثرہ کموینٹیز میں زندگی کا معیار بہتر ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ بڑے عالمی چیلنجز جیسے کہ ماحولیاتی تبدیلی، خطرے کے شکار علاقوں میں استحکام اور علاقہ بدری کا تعلق بھی بنجر زمین سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ ہیکٹر زمین کی آبادی صرف ایک نمبر ہی نہیں بلکہ یہ ایسے وقت میں بڑا پیغام ہے جب دنیا میں زمین تیزی سے بنجر اور قحط کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مملکت کی جانب سے گلوبل ماڈل پیش کیا گیا ہے جس کے ذریعے ایکوسسٹم کی آبادی قدرتی طور پر موجود حل، ایجادات اور عملی اقدامات کو پالیسی سے ہم آہنگ کر کے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ یہ تمام کوششیں سعودی گرین انیشیٹیو کا حصہ ہیں جن کا مقصد سائنسی بنیاد پر زمین اور ایکوسسٹم فنکشنز کو بحال کرنا، بائیوڈائیورسٹی کو بڑھانا اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیداری حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے مملکت کی جانب سے عالمی ماحولیاتی ایجنڈے کو ایڈوانس کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی لمبے سفر میں اہم قدم ہے جس کے لیے پائیدار عزم، تیز اقدامات اور طویل شراکت داری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی آبادکاری عوام پر کی جانے والی سرمایہ کاری، استحکام اور سب کے لیے ایک پائیدار اور بہترین مستقبل ہے۔

مزید خبریں