اقوام متحدہ۔26مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل فار پیس آپریشنز جیان لیکروئکس نے قیام امن اور امن و امان کے فروغ کی کوششوں میں خواتین کے بنیادی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خواتین کو بااختیار بنانا اولین ترجیح ہے لیکن اس ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام بااختیار لوگوں کی شمولیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے …
اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خواتین کو بااختیار بنانا اولین ترجیح ہے ، سربراہ اقوام متحدہ امن آپریشنز

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔26مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل فار پیس آپریشنز جیان لیکروئکس نے قیام امن اور امن و امان کے فروغ کی کوششوں میں خواتین کے بنیادی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خواتین کو بااختیار بنانا اولین ترجیح ہے لیکن اس ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام بااختیار لوگوں کی شمولیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سٹیٹس آف ویمن کے کمیشن (سی ایس ڈبلیو ) کے 65 ویں سیشن کے فوجی قیادت میں خواتین کی شمولیت پر توجہ دینے کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن آپریشنز میں خواتین کی مساوی۔
مکمل اور بامعنی شمولیت میں اضافہ ہمارے ادارے کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے جو سلامتی کونسل کی خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق قراردادوں اور سیکرٹری جنرل کے ایکسن فار پیس کیپنگ اقدام سے منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سال سے امن آپریشنز کے فریم ورک کے تحت اے فار پی کا مقصد امن آپریشنز کی فورسز میں ہر سطح پر اور اعلی عہدوں پر خواتین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے جو اگلے مرحلے کے لیے بھی ہماری اولین ترجیح رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امن مشنز میں صنفی مساوات کے حصول کی طرف بڑی پیش قدمی کرنے کے باوجود مجموعی طور پر ترقی کی رفتار سست ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال جنوری میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں سٹاف افسران اور عسکری و دفاعی ماہرین میں خواتین کا تناسب 20 فیصد سے بھی کم اور ملٹری یونٹس میں اہلکاروں میں خواتین ک تناسب ا صرف 5.4 فیصدہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے 12 فیلڈ مشنز میں اس وقت 2 خواتین انتہائی اعلی فوجی عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہی ہیں جن میں سے ایک قبرص میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں فورس کمانڈر اور دوسری مغربی صحارا مشن میں ڈپٹی فورس کمانڈر تعینات ہیں تاہم اس حوالے سے ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہم اس میں پیش رفت دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امن آپریشنز کو موثر اور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے امن مشنز اور ہیڈکوارٹرز میں خواتین کی اعلی عہدوں اور مختلف شعبوں میں تعیناتی کے ساتھ ساتھ انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے جہاں پیشہ وارانہ ترقی، سکھانے اور صلاحیتوں میں اضافہ کرنے ، ٹیلنٹ مینجمنٹ اورخواتین کے لیے دفاتر یا کام کرنے والی جگہوں پر محفوظ ماحول فراہم کرنے اور صنفی مساوات پر توجہ دی جارہی ہے وہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے ، امتیازی سلوک ، نادانستہ، لاشعوری اور دقیانوسی تصورات سے نمٹنے کے لئے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے امن مشنز کے لئے افرادری قوت فراہم کرنے والے تمام ممالک کے ساتھ تعاون پر منحصر ہے اور تمام ممالک کو صنف سے قطع نظر صنفی مساوات کی حمایت اور تبدیلی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ ہمیں صنفی مساوات ، خواتین ، امن و سلامتی اور صنفی مساوات کو مشترکہ سیاسی ترجیح کے طور پر تسلیم کرنا ہو گا اور اس مقصد کے لئے مسلسل سیاسی سطح پر وسائل اور اقدامات بروئے لانے ہوں گے ۔








