اقوام متحدہ ۔23اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کے شراکت دار صومالیہ میں قحط کی روک تھام کے لیے نیا طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں ۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور، اوسی ایچ اے نے کہاہے کہ شراکت دار صومالیہ میں قحط کی روک تھام کے لیے زیادہ متاثرہونے والے علاقوں پر توجہ مرکوزکررہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے انسانی …
اقوام متحدہ کے شراکت دار صومالیہ میں قحط کی روک تھام کے لیے نیا طریقہ کار اختیار کررہے ہیں ، دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔23اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کے شراکت دار صومالیہ میں قحط کی روک تھام کے لیے نیا طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں ۔
چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور، اوسی ایچ اے نے کہاہے کہ شراکت دار صومالیہ میں قحط کی روک تھام کے لیے زیادہ متاثرہونے والے علاقوں پر توجہ مرکوزکررہے ہیں ۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ماہرین نے کہاہے کہ اقوام متحدہ نے 2017 میں صومالیہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کے ذریعے قحط کو روکا تھا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ صومالیہ میں خشک سالی بدستور خراب ہوتی جارہی ہے، ملک کو رواں سال جون تک 6علاقوں میں قحط کے خطرے کا سامنا ہے۔
دفتر نے کہا کہ شدید خشک سالی سے متاثرہ افراد کی تعداد مارچ میں 4.9 ملین سے بڑھ کر اپریل میں 6.1 ملین ہو گئی ہے۔ پانی، خوراک اور چراگاہ کی تلاش نے تقریباً 759,400 افراد کو بے گھر کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین تنازعہ کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن انسانی امداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔ دفتر نے کہا کہ صومالیہ میں 90 فیصد تک پانی کے ذرائع خشک ہو رہے ہیں، جن میں شبیل اور جوبا دریا بھی شامل ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 3.5 ملین افراد پانی کی مناسب رسائی سے محروم ہیں۔
اوسی ایچ اے نے کہا کہ بھوک بڑھ رہی ہے اور 6 ملین سے زیادہ صومالیوں کو اب اپریل سے وسط 2022 تک خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دفتر نے کہاکہ جنوبی صومالیہ کے کچھ اضلاع میں بچوں میں شدید غذائی قلت بڑھ رہی ہےجو تباہ کن سطح تک پہنچ رہی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ اس سال تقریباً 1.4 ملین بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے، اور 74 میں سے 45 اضلاع میں عالمی سطح پر شدید غذائی قلت کی شرح 15 فیصد سے زیادہ ہوئی ہے۔
او سی ایچ اے نے کہا کہ بروقت اور مناسب صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کی کمی اور صاف پانی، خوراک اور غذائیت تک ناکافی رسائی نے روک تھام کی بیماریوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
جنوری سے لے کر اب تک حکام نےہیضے کے 3,675 سے زائد کیسز اور خسرہ کے 2,720 کیسز کی تصدیق کی۔ دفتر نے کہا کہ خشک سالی نے صومالیہ میں 1.4 ملین بچوں کی اسکول حاضری متاثر کی ہے ۔
دفتر نے کہاکہ رواں سال جنوری سے اب تک انسانی ہمدردی کے شراکت دار صومالیہ میں تقریباً 2.6 ملین لوگوں تک زندگی بچانے والی امداد کے ساتھ پہنچ چکے ہیں۔ دفتر نے بتایا کہ 2022 کے ہیومینٹیرین ریسپانس پلان کو مطلوبہ 1.5 بلین ڈالر میں سے صرف 66.7 ملین امریکی ڈالر ملے ہیں ۔
مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سینٹرل ایمرجنسی رسپانس فنڈ (سی ای آر ایف) نے صومالیہ کے لیے 14 ملین امریکی ڈالر مختص کیے ہیں، اور صومالیہ ہیومینٹیرین فنڈ نے 20 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔
اس فنڈنگ سے صومالیہ میں خشک سالی کے اثرات پر قابو پانے کے لیے 2021 کے اوائل سے سی ای آر ایف کی کل فنڈنگ 66 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
او سی ایچ اے نے کہا کہ قحط سالی کا خطرہ قرن افریقہ کی حالیہ تاریخ میں سب سے بدترین آب و ہوا کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال میں سے ایک ہے۔








