واشنگٹن۔14دسمبر (اے پی پی):امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ سوڈان کے شہر الفاشر میں قحط پھیل گیا ہے اور ریپڈ سپورٹ فورس بہت کم امداد فراہم کر رہی ہے۔ العربیہ کے مطابق نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سوڈان میں نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز ( آر ایس ایف ) نے گزشتہ اکتوبر میں الفاشر شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پہلی بار شہر …
الفاشر میں قحط پھیل گیا، ریپڈ سپورٹ فورس بہت کم امداد فراہم کر رہی ہے، نیویارک ٹائمز

مزید خبریں
واشنگٹن۔14دسمبر (اے پی پی):امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ سوڈان کے شہر الفاشر میں قحط پھیل گیا ہے اور ریپڈ سپورٹ فورس بہت کم امداد فراہم کر رہی ہے۔ العربیہ کے مطابق نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سوڈان میں نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز ( آر ایس ایف ) نے گزشتہ اکتوبر میں الفاشر شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پہلی بار شہر میں محدود اور وقفے وقفے سے انسانی امداد کو داخل ہونے کی اجازت دی ہے، اس اقدام کو ایک نایاب استثنیٰ قرار دیا گیا ہے جو وہاں کی انسانی صورتحال پر عائد سخت محاصرے اور مکمل پردے کو تبدیل نہیں کرتا۔
آر ایس ایف نے شہر پر قبضہ کرنے کے بعد سے الفاشر میں مواصلات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عینی شاہدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظالم کا ارتکاب کرنے کی اطلاعات دی ہیں۔ مغربی سوڈان میں دارفور علاقے میں واقع اس شہر تک صحافیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی رسائی اب بھی ممنوع ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر کے اندر پھنسے دسیوں ہزار شہریوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔’’ مالم دارفور برائے امن و ترقی ‘‘ نام کی ایک مقامی انسانی تنظیم الفاشر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس نے دو مراحل میں پناہ گاہوں میں تقریباً 1200 خاندانوں کو غذائی امداد فراہم کی ہے۔
تنظیم نے تصدیق کی کہ باشندوں کو پانی اور طبی خدمات کی شدید کمی کا سامنا ہے، خاص طور پر زخمیوں، بزرگوں اور ایسے مریضوں کو جنہیں فوری دیکھ بھال کی ضرورت ہے، طبی خدمات کی قلت کا سامنا ہے۔تنظیم کے سربراہ لقمان احمد نے کہا کہ یہ ہر لحاظ سے ایک تباہی ہے۔ لوگ پریشان ہیں اور کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ محدود رسائی دیگر اداروں کو بھی سنگین سکیورٹی خطرات کے باوجود شہر تک پہنچنے کی ترغیب دے گی۔
لقمان احمد نے وضاحت کی کہ ان کی تنظیم نے داخلے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے آر ایس ایف کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے۔ بڑی بین الاقوامی امدادی تنظیمیں ابھی تک وہاں پہنچنے سے قاصر ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام میں ایمرجنسی تیاری اور رسپانس ڈویژن کے ڈائریکٹر روس سمتھ نے کہا کہ الفاشر کے اندر جاری فوجی سرگرمی رسائی کو غیر محفوظ بنا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم از کم سکیورٹی شرائط پوری ہوتے ہی حرکت میں آنے کی تیاری کے باوجود اس وقت ہمارا کوئی بھی غذائی قافلہ الفاشر جانے والا نہیں ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے فنڈز کی کمی کی وجہ سے آئندہ جنوری سے سوڈان میں امدادی راشن میں کمی کا بھی اعلان کیا ہے۔ زمینی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ آر ایس ایف کے کنٹرول والے علاقوں میں امداد پہنچانا خطرات سے بھرپور ہے۔ امدادی قافلوں کو فوجی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جن میں گزشتہ ہفتے ڈبلیو ایف پی کا ایک ٹرک بھی شامل تھا۔ مسلح چیک پوسٹیں پھیلی ہوئی ہیں اور راستے بارودی سرنگوں والے علاقوں سے گزرتے ہیں۔
انسانی قافلوں کو گھات لگا کر لوٹا جارہا ہے۔ الفاشر پر قبضے سے قبل شہر کو ڈیڑھ سال تک آر ایس ایف کے مسلسل محاصرے اور گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں بنیادی خدمات تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ نومبر میں ییل یونیورسٹی کی ہیومینٹیرین ریسرچ لیب نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے ذریعے انکشاف کیا کہ شہر کے اندر شہری زندگی یا نقل و حرکت کی آزادی کی کوئی فطری علامت موجود نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوڈان کی خانہ جنگی عالمی سطح پر بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے۔ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق اس خانہ جنگی کی وجہ سے تقریباً 12 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور 40 ہزار تک اموات ہو گئی ہیں ۔








