الپائن کلب آف پاکستان نےایڈونچر ٹورازم اور ماؤنٹینیئرنگ کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع قومی تربیتی پروگرام شروع کیا ہے ، عرفان ارشد

الپائن کلب آف پاکستان نےایڈونچر ٹورازم اور ماؤنٹینیئرنگ کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع قومی تربیتی پروگرام شروع کیا ہے ، عرفان ارشد

اسلام آباد۔26اپریل (اے پی پی):پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم اور ماؤنٹینیئرنگ کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر الپائن کلب آف پاکستان نے ایک جامع قومی تربیتی پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد ایک ایسا ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا ہے جو بین الاقوامی معیار پر پورا اتر سکے۔ اتوار کو ”اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے اے سی پی کے صدر میجر جنرل (ر) عرفان ارشد نے کہا کہ ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ماؤنٹینیئرنگ کی باقاعدہ تربیت کا جو خلا موجود تھا، اب اسے پْر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے اس شعبے کی صلاحیتیں محدود رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے تاریخی کوہ پیمائی کے حوالے سے مشہور گاؤں صدپارہ میں ایک چھوٹا ماؤنٹینیئرنگ اسکول پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے۔

یہ سہولت کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی معاونت، پاک فوج اور اے سی پی کے صدر کی شراکت سے قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کا مرکزی حصہ شگر میں قائم ہونے والا نیشنل ماؤنٹینیئرنگ اسکول ہے جو حکومت کی سرپرستی میں ایک بڑا منصوبہ ہے۔ اس کے لیے زمین مختص ہو چکی ہے، فنڈز رکھے جا چکے ہیں اور ٹینڈرنگ کا عمل بھی جاری ہے۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 946 ملین روپے ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں بھی ایک الپائن کلائمبنگ اکیڈمی قائم کی جا رہی ہے جس کے بنیادی ڈھانچہ اور دائرہ کار کو اس وقت حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کورسز کو نیوٹیک کی منظوری کے تحت منظم پروگرام کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے جس کا مقصد بڑی تعداد میں تصدیق شدہ پیشہ ور افراد تیار کرنا ہے۔

پانچ سالہ منصوبے کے تحت اے سی پی کا ہدف تقریباً 5,000 افراد کو ماؤنٹینیئرنگ اور کلائمبنگ کے شعبے میں تربیت دینا ہے۔ عرفان ارشد نے کہا کہ ماؤنٹینیئرنگ اور کلائمبنگ ایک مکمل نظام ہے جو سیاحت اور گلگت بلتستان میں روزگار کے مواقع سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک مکمل ایکو سسٹم ہے، یہ دوسرے کھیلوں کی طرح نہیں ہے۔ روزگار سیاحت سے جڑا ہے، اور سیاحت کوہ پیمائی، ہائیکنگ اور کلائمبنگ سے منسلک ہے۔ یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اعلیٰ سطح کی سرٹیفکیشن میں وقت لگتا ہے، تاہم مختصر دورانیے کے تربیتی کورسز بھی متعارف کرائے جائیں گے تاکہ معاون عملہ بھی شامل ہو سکے۔ چند ہفتوں سے چھ ماہ تک کے کورسز کم بلندی پر کام کرنے والے افراد، کچن اسٹاف اور دیگر معاون عملے کے لیے ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تین سال بعد کوئی بھی ٹور آپریٹر غیر تربیت یافتہ عملہ استعمال نہیں کر سکے گا اور یہ شرط سب کے لیے لازمی ہوگی۔ ان کے مطابق جلد ہی ہر وہ شخص جو پہاڑوں میں کام کرے گا، متعلقہ اداروں سے تربیت یافتہ اور تصدیق شدہ ہوگا۔