امریکااقوامِ متحدہ کی جگہ اپنے کنٹرول میں نیا عالمی ادارہ بنانا چاہتا ہے ، برازیل

ریو ڈی جنیرو۔24جنوری (اے پی پی):برازیل نے کہاہے کہ امریکااقوامِ متحدہ کی جگہ اپنے کنٹرول میں نیا عالمی ادارہ بنانا چاہتا ہے۔ تاس کے مطابق برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوامِ متحدہ میں اصلاحات پر مشترکہ طور پر کام کرنے کے بجائے اس کی جگہ ایک نیا عالمی ادارہ، بورڈ آف پیس، قائم کرنا چاہتے ہیں جو …

ریو ڈی جنیرو۔24جنوری (اے پی پی):برازیل نے کہاہے کہ امریکااقوامِ متحدہ کی جگہ اپنے کنٹرول میں نیا عالمی ادارہ بنانا چاہتا ہے۔ تاس کے مطابق برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوامِ متحدہ میں اصلاحات پر مشترکہ طور پر کام کرنے کے بجائے اس کی جگہ ایک نیا عالمی ادارہ، بورڈ آف پیس، قائم کرنا چاہتے ہیں جو مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہو۔

برازیلی صدر نے یہ بات اپنے ایک خطاب میں کہی، جو برازیلی حکومت کے یوٹیوب چینل پر نشر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’تنظیم (اقوامِ متحدہ) میں اصلاحات پر بات کرنے کے بجائے ٹرمپ ایک نیا اقوامِ متحدہ بنانے کی تجویز دے رہے ہیں، جہاں صرف ان کے پاس اختیار ہوگا۔لولا دا سلوا نے واضح کیا کہ برازیل کسی ایسے بین الاقوامی ادارے کو تسلیم نہیں کرے گا جو یکطرفہ طور پر تشکیل دیا جائے۔

ان کے مطابق برازیل عالمی امور میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی اور قائدانہ کردار کا دفاع جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، اور برازیل اور اس کے عوام کی خودمختاری کے احترام کا مطالبہ کریں گے۔واضح رہے کہ 22 جنوری کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر 19 ممالک کے نمائندوں نے غزہ میں امن کی کوششوں کے لیے بورڈ آف پیس کے قیام کے چارٹر پر دستخط کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق مستقبل میں 50 سے زائد ممالک اس بورڈ میں شامل ہو سکتے ہیں۔یہ اقدام اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان غزہ کے انتظام سے متعلق معاہدے کی بنیاد پر سامنے آیا ہے، تاہم اس بورڈ کا دائرہ کار دیگر خطوں میں تنازعات کی روک تھام اور حل تک بھی بڑھایا جائے گا۔

ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو بھی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، جس پر غور کیا جا رہا ہے۔ پوٹن نے روسی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے اجلاس میں کہا کہ ماسکو اس بورڈ کے لیے درکار ایک ارب ڈالر کی رقم امریکا میں سابق انتظامیہ کے دور میں منجمد کیے گئے روسی اثاثوں سے منتقل کر سکتا ہے۔

مزید خبریں