امریکا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یکطرفہ ٹیرف ختم کرے، چین

بیجنگ۔23فروری (اے پی پی):چین نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے زیادہ تر اقدامات کو مسترد کیے جانے کے بعد ان ٹیرفس کو منسوخ کرے جن کا اعلان امریکی صدر نے یکطرفہ طور پر کیا تھا۔ اردو نیوز کے مطابق یہ بات چین کی وزارت تجارت نے پیر کو اپنے بیان میں کہی۔ وزارت نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے …

بیجنگ۔23فروری (اے پی پی):چین نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے زیادہ تر اقدامات کو مسترد کیے جانے کے بعد ان ٹیرفس کو منسوخ کرے جن کا اعلان امریکی صدر نے یکطرفہ طور پر کیا تھا۔ اردو نیوز کے مطابق یہ بات چین کی وزارت تجارت نے پیر کو اپنے بیان میں کہی۔ وزارت نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے اثرات کا جامع طور پر جائزہ لے رہی ہے اور امریکا سے ٹیرف ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

‘بیان میں کہا گیا ہے کہ چین امریکا پر زور دیتا ہے کہ وہ تجارتی شراکت داروں پر لگائے گئے ٹیرف منسوخ کرے۔ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور تحفظ پسندی کا راستہ کہیں نہیں جاتا۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے محصولات کے بڑھتے سلسلے پر گہری توجہ دی جا رہی ہے۔وزارت نے کہا کہ امریکا اس وقت اپنے تجارتی شراکت داروں پر عائد کیے گئے محصولات کو برقرار رکھنے کے لیے تجارتی تحقیقات جیسے متبادل اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، چین اس پر سنجیدگی سے توجہ دے گا اور اپنے مفادات کا ٹھوس انداز میں دفاع کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکی عدالت نے جمعہ کو چھ تین کے تناسب سے فیصلہ سنایا تھا کہ 1977 کے قانون کے تحت صدر ٹرمپ ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں رکھتے، جس کے تحت انہوں نے کئی ممالک پر ٹیکس لگائے اور عالمی طور پر تجارت میں شدید اتار چڑھاؤ آیا۔ صدر ٹرمپ نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک اور قانونی اختیار کے تحت درآمدات پر 10 فیصد نئی ڈیوٹی لگانے اور ہفتہ کے روز تک 15 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کیا۔

رپورٹس کے مطابق 15 فیصد نئی ڈیوٹیز منگل کو شروع ہونے والی ہیں جو 150 روز تک برقرار رہیں گی جبکہ ان میں کچھ مصنوعات کے لیے چھوٹ بھی موجود ہے۔ امریکا کے تجارتی نمائندہ جیمی سن گریر نے گزشتہ روز میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد بھی چین، یورپی یونین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تجارتی معاہدے نافذ رہیں گے۔