امریکا میں ورلڈ کپ 2026 کے بائیکاٹ کی بازگشت، یورپی ممالک میں سنجیدہ مشاورت شروع

برلن۔26جنوری (اے پی پی):یورپ اور امریکا کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات کے تناظر میں فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے بائیکاٹ کے مطالبات یورپی حلقوں میں زور پکڑنے لگے ہیں۔ ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق سیاست دانوں، شائقین اور فٹبال منتظمین کا ماننا ہے کہ امریکا کی انتظامیہ کے حالیہ اقدامات، خصوصاً گرین لینڈ سے متعلق بیانات اور پالیسیوں، نے امریکا میں منعقد ہونے والے اس میگا ایونٹ میں شرکت کو …

برلن۔26جنوری (اے پی پی):یورپ اور امریکا کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات کے تناظر میں فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے بائیکاٹ کے مطالبات یورپی حلقوں میں زور پکڑنے لگے ہیں۔ ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق سیاست دانوں، شائقین اور فٹبال منتظمین کا ماننا ہے کہ امریکا کی انتظامیہ کے حالیہ اقدامات، خصوصاً گرین لینڈ سے متعلق بیانات اور پالیسیوں، نے امریکا میں منعقد ہونے والے اس میگا ایونٹ میں شرکت کو متنازع بنا دیا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ کہا کہ وہ گرین لینڈ کو طاقت کے ذریعے ضم نہیں کریں گے، تاہم اسی تقریر میں طاقت کے استعمال سے متعلق بیان نے یورپی ممالک میں تشویش پیدا کر دی۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں کے باعث تمام ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا، جس میں کھیلوں کے بائیکاٹ کا آپشن بھی شامل ہے۔

ڈنمارک کے سوشل ڈیموکریٹس کے ثقافت و کھیل سے متعلق ترجمان موگنز ینسن نے کہا ہے کہ فی الحال ان کی جماعت بائیکاٹ کے حق میں نہیں تاہم اگر امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی قدم اٹھایا گیا تو بائیکاٹ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں ورلڈ کپ میں شرکت پر نظرثانی ناگزیر ہو جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا نے پیر کو رکن ممالک کی فٹبال ایسوسی ایشنز کے سربراہان کا اجلاس منعقد کیا، جس میں امریکا کی جانب سے بعض یورپی ممالک پر عائد 10 فیصد تجارتی ٹیرف بھی زیرِ بحث آئے۔ ان ممالک میں ناروے، نیدرلینڈز، جرمنی، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں، جن کی ٹیمیں پہلے ہی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں جبکہ ڈنمارک، سویڈن اور شمالی آئرلینڈ پلے آف میں ہیں۔جرمنی میں بھی بائیکاٹ کے حوالے سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

جرمن پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے رکن روڈرش کیزیویٹر کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ کے معاملے پر دھمکیوں پر عمل کیا یا یورپی یونین کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑی تو یورپی ممالک کے لئے فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کا تصور مشکل ہو جائے گا۔ تاہم جرمنی کی وزیرِ کھیل کرسٹیانے شینڈرلائن نے فیصلہ فٹبال فیڈریشن پر چھوڑتے ہوئے کہا کہ سپورٹس ایونٹس میں شرکت یا بائیکاٹ کا اختیار سیاست دانوں کے بجائے متعلقہ کھیلوں کی تنظیموں کے پاس ہے۔نیدرلینڈز میں صحافی اور سماجی کارکن تیون فان ڈی کیوکین کی جانب سے بائیکاٹ کے حق میں شروع کی گئی پٹیشن پر اب تک ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد دستخط ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کا مؤقف اب قابلِ عمل نہیں رہا کیونکہ سیاست خود کھیلوں میں داخل ہو چکی ہے۔ادھر فیفا صدر جیانی انفانٹینو کی جانب سے ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات نے بھی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ڈنمارک کے سیاست دان موگنز ینسن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا اس ٹورنامنٹ کو سیاسی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یوئیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کا آئندہ اجلاس اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یورپ کی بڑی فٹبال طاقتیں متحد ہو کر بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو اس کے عالمی فٹبال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ناروے کی فٹبال فیڈریشن کی صدر لیسے کلاوینیس نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی ایک ملک کا اکیلے بائیکاٹ مؤثر نہیں ہوگا بلکہ یورپی ممالک کو اس معاملے پر یک آواز ہو کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

مزید خبریں