منظم گداگری کے نیٹ ورکس کے خاتمہ کیلئے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں، چیئرمین پیاس انٹرنیشنل رانا عمران لطیف

اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):غیر منافع بخش فلاحی تنظیم پیاس(PIYASS )انٹرنیشنل کے چیئرمین رانا عمران لطیف نے ملک بھر میں منظم گداگری کے نیٹ ورکس کے خاتمہ کیلئے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے وقار اور بین الاقوامی تشخص کی بحالی کے لیے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ جمعہ کو یہاں جاری بیان میں چیئرمین پیاس انٹرنیشنل نے کہا …

اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):غیر منافع بخش فلاحی تنظیم پیاس(PIYASS )انٹرنیشنل کے چیئرمین رانا عمران لطیف نے ملک بھر میں منظم گداگری کے نیٹ ورکس کے خاتمہ کیلئے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے وقار اور بین الاقوامی تشخص کی بحالی کے لیے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

جمعہ کو یہاں جاری بیان میں چیئرمین پیاس انٹرنیشنل نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں منظم گداگری میں خطرناک اضافے کی مسلسل نشاندہی اور متعلقہ حکام سے بارہا موثر اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی تاہم مسلسل توجہ دلانے کے باوجود اس مسئلے کو طویل عرصے تک نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجے میں منظم گداگری کے نیٹ ورک مضبوط ہوتے گئے اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔چیئر مین پیاس انٹرنیشنل رانا عمران لطیف نے کہا کہ منظم گداگری اب محض ایک سماجی یا فلاحی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ مختلف جرائم کا ذریعہ بن چکی ہے جن میں چوری، جیب تراشی، انسانی سمگلنگ، بچوں کا استحصال، فراڈ اور منظم جرائم کی دیگر اقسام شامل ہیں، اس کے باعث حقیقی مستحق افراد تک خیراتی امداد پہنچنے کے بجائے مجرمانہ نیٹ ورکس کمزور اور بے سہارا خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کا استحصال کرتے رہتے ہیں۔چیئر مین پیاس انٹرنیشنل رانا عمران لطیف نے حکومت مطالبہ کیا کہ اس بڑھتے ہوئے ناسور پر قابو پانے میں مسلسل ناکامی کے ذمہ دار متعلقہ اداروں کا موثر احتساب کیا جائے،ملک بھر میں فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ منظم گداگری کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جا سکے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنایا جائے اور مستحق افراد کی بحالی کے لیے انہیں تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔رانا عمران لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وقار اور بین الاقوامی تشخص کی بحالی کے لیے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں، اگر اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے بروقت اور فیصلہ کن اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس سے نہ صرف ملک کی ساکھ بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی مزید نقصان پہنچے گا۔