تبادلے کی بنیاد پر ہونے والے لین دین پر حقِ شفعہ کا دعویٰ برقرار نہیں رہتا، سپریم کورٹ

"سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر جائیداد کا انتقال فروخت کے بجائے تبادلے (بدل) کی بنیاد پر ہوا ہو تو اس پر حقِ شفعہ کا دعویٰ قائم نہیں ہوتا۔”

اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر جائیداد کا انتقال فروخت کے بجائے تبادلے (بدل) کی بنیاد پر ہوا ہو تو اس پر حقِ شفعہ کا دعویٰ قائم نہیں ہوتا۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ حقِ شفعہ ایک کمزور قانونی حق ہے، اس لیے اس سے متعلق قوانین کی سختی سے تشریح کی جائے گی اور یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری دعویٰ کرنے والے پر ہوگی کہ متعلقہ لین دین درحقیقت فروخت تھا، نہ کہ تبادلہ۔جسٹس شاہد بلال حسن نے جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ کی جانب سے سول اپیل نمبر 28-ایل، 29-ایل اور 30-ایل/2011 میں 27 جولائی 2026 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے واضح ہے کہ فریقین کے درمیان جائیداد کا تبادلہ ہوا تھا، فروخت نہیں۔ مدعی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ بظاہر تبادلے کی صورت میں درج لین دین حقیقت میں فروخت تھا۔ اس لیے اس کے حقِ شفعہ کا دعویٰ قانون کے مطابق برقرار نہیں رہتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالتیں حقِ شفعہ کے مقدمات میں کسی لین دین کو محض قیاس کی بنیاد پر فروخت قرار نہیں دے سکتیں۔ اگر انتقال میں تبادلہ درج ہو تو حقِ شفعہ پیدا نہیں ہوتا، جب تک اس کے برعکس مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد پیش نہ کیے جائیں۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ مدعی طلبِ اشہاد کے قانونی تقاضے بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ رجسٹرڈ نوٹس کی تعمیل ثابت کرنے کے لیے متعلقہ ڈاکیے کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، حالانکہ فریقِ مخالف نے نوٹس کی وصولی سے انکار کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کے مطابق ایسی صورت میں ڈاکیے کی شہادت ناگزیر ہوتی ہے اور اسے پیش نہ کرنا مدعی کے مقدمے کے لیے مہلک خامی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ مدعی یہ بھی واضح نہیں کر سکا کہ اسے مبینہ فروخت کی قیمت کا علم کس ذریعے سے ہوا۔ عدالت کے مطابق حقِ شفعہ کا دعویٰ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف لین دین بلکہ اس کی قیمت سے متعلق اپنے علم کا قانونی ذریعہ بھی ثابت کرے۔سپریم کورٹ نے ان وجوہات کی بنیاد پر اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے اور ٹرائل کورٹ کا وہ فیصلہ بحال کر دیا جس میں حقِ شفعہ کا دعویٰ مسترد کیا گیا تھا۔